وائب کوڈنگ سے اے آئی ایجنٹس تک: پاکستان میں مصنوعی ذہانت نوجوانوں کے لیے کیسے نئے مواقع پیدا کررہی ہے؟

اتوار 7 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت نے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اے آئی نہ صرف روایتی آئی ٹی شعبے کو تبدیل کررہی ہے بلکہ نوجوانوں کے لیے آن لائن کمائی، فری لانسنگ اور ٹیکنالوجی پر مبنی کاروبار کے دروازے بھی کھول رہی ہے۔

آئی ٹی ماہرین کےمطابق پاکستان میں ہزاروں نوجوان اب اے آئی ٹولز کی مدد سے مختلف شعبوں میں خدمات فراہم کررہے ہیں۔ ان میں کانٹینٹ رائٹنگ، گرافک ڈیزائننگ، ویڈیو ایڈیٹنگ، چیٹ بوٹ ڈیویلپمنٹ، ڈیٹا اینالیسس اور سافٹ ویئر پروگرامنگ شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: اخلاقی ہیکنگ کیا ہے، مصنوعی ذہانت اس کے لیے بڑا چیلنج کیوں بنتی جا رہی ہے؟

اس کے علاوہ پاکستان میں اس وقت وائب کوڈنگ کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

فری لانسنگ پلیٹ فارمز پر اے آئی ماہرین کی مانگ میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے پاکستانی نوجوانوں کے لیے کمائی کے امکانات مزید روشن ہوگئے ہیں۔

ہر شعبہ اے آئی سے متاثر ہورہا ہے، عمر طاہر

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے آئی ٹی ماہر عمر طاہر کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت کا استعمال تیزی سے ناگزیر ہوتا جا رہا ہے اور اب قریباً ہر شعبہ اس ٹیکنالوجی سے متاثر ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق چاہے تعلیم، صحت، کاروبار، میڈیا یا آئی ٹی کا شعبہ ہو، اے آئی کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے اور آنے والے برسوں میں اس کا استعمال مزید عام ہو جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ گزشتہ کئی سالوں سے یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ اے آئی کے باعث بڑی تعداد میں نوکریاں ختم ہو جائیں گی، تاہم حقیقت یہ ہے کہ خطرہ خود اے آئی سے نہیں بلکہ اس سے ہم آہنگ نہ ہونے سے ہے۔

ان کے بقول جو افراد اے آئی ٹولز کو استعمال کرنا اور اپنے کام میں شامل کرنا سیکھ لیں گے، ان کے لیے ترقی کے مواقع بڑھ جائیں گے، جبکہ نئی ٹیکنالوجی سے دور رہنے والے افراد کو روزگار کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

عمر طاہر نے مزید کہاکہ آج کے دور میں پیشہ ور افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اے آئی سے متعلق مہارتیں حاصل کریں اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو اپ ڈیٹ رکھیں، کیونکہ مستقبل میں کامیابی انہی لوگوں کا مقدر ہوگی جو اے آئی کو اپنے کام کا حصہ بنا کر اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بہت سے پاکستانی اسٹارٹ اپس بھی اے آئی پر مبنی مصنوعات اور خدمات متعارف کرا رہے ہیں۔ کاروباری ادارے کسٹمر سروس، مارکیٹنگ، سیلز اور ڈیٹا مینجمنٹ کے لیے اے آئی سلوشنز استعمال کررہے ہیں، جس سے اس شعبے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ اور مستقبل قریب میں قریباً ہر شعبے کو اے آئی سے وابستہ ماہرین کی ضرورت ہوگی۔

وائب کوڈنگ کیا ہے؟ اور اس کا رجحان تیزی سے پاکستان میں کیوں بڑھ رہا ہے؟

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ایپ ڈویلپر حمزہ اسلم کا کہنا تھا کہ وائب کوڈنگ دراصل کمپیوٹر پروگرام یا ویب سائٹ بنانے کا ایک نیا طریقہ ہے جس میں انسان خود تفصیلی کوڈ لکھنے کے بجائے مصنوعی ذہانت کو عام زبان میں اپنی ضرورت بتاتا ہے، اور اے آئی اس کے مطابق کوڈ تیار کر دیتی ہے۔

کوڈنگ کا یہ ذریعہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے پروگرامنگ سیکھے بغیر بھی لوگ ویب سائٹس اور ایپس بنانا شروع کر سکتے ہیں۔ ’آپ کے لیے بہت زیادہ ہائی کوالیفائیڈ پروفیشنل ہونا ضروری نہیں ہوتا۔‘

حمزہ کے مطابق فری لانسرز اس کو کم وقت میں زیادہ کام مکمل کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ اور وہ افراد جنہوں نے اس فیلڈ میں ابھی قدم رکھا ہو، ان کے لیے کام آسان ہو جاتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ خاص طور پر وہ نوجوان جو اپنا ٹیک سٹارٹ اپ شروع کرنا چاہتے ہیں، تو نئے کاروبار شروع کرنے والوں کے لیے ابتدائی اخراجات کم ہو جاتے ہیں، کیونکہ نوجوانوں کو اپنے آئیڈیاز آزمانے کے لیے بڑی ٹیم یا زیادہ وسائل کی ضرورت نہیں رہتی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ڈویلپرز کی بڑی تعداد تیزی سے اس طریقۂ کار کو اپنا رہی ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ کم وقت میں زیادہ کام انجام دینا ممکن ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ کام سرانجام دینے کا نسبتاً آسان اور کم محنت طلب ذریعہ بھی ثابت ہو رہا ہے۔

پاکستان میں قریباً ہر سطح پر اے آئی کا استعمال ہورہا ہے، میثم رضا

اے آئی ایکسپرٹ میثم رضا کے مطابق پاکستان میں قریباً ہر سطح پر اے آئی کا کچھ نہ کچھ استعمال کیا جا رہا ہے، تاکہ کام نہ صرف بروقت بلکہ آسانی بھی ہو سکے۔

اے آئی آٹومیشن: لوگ اور کاروبار ایسے نظام بنا رہے ہیں جو بہت سے کام خودکار طریقے سے انجام دیتے ہیں، جیسے ای میلز کا جواب دینا، کسٹمر سروس، ڈیٹا انٹری اور سوشل میڈیا مینجمنٹ۔ یہ شعبہ خاص طور پر فری لانسرز اور چھوٹے کاروباروں میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔

نو-کوڈ اور لو-کوڈ پلیٹ فارمز: اب ویب سائٹس، موبائل ایپس اور آن لائن سسٹمز بنانے کے لیے مکمل پروگرامنگ جاننا ضروری نہیں رہا۔ ایسے پلیٹ فارمز مقبول ہو رہے ہیں جن میں ڈریگ اینڈ ڈراپ کے ذریعے ایپس بنائی جا سکتی ہیں۔

اے آئی ایجنٹس: یہ ایسے ذہین سافٹ ویئر ہیں جو صرف سوالوں کے جواب نہیں دیتے بلکہ خود فیصلے کر کے مختلف کام انجام دے سکتے ہیں، مثلاً تحقیق کرنا، رپورٹس تیار کرنا یا صارفین سے گفتگو کرنا۔

ڈیجیٹل مصنوعات بنانا: بہت سے پاکستانی نوجوان آن لائن کورسز، ای بکس، ٹیمپلیٹس اور سافٹ ویئر ٹولز بنا کر فروخت کررہے ہیں۔ اب صرف خدمات فروخت کرنے کے بجائے اپنی مصنوعات بنانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

پرامپٹ انجینیئرنگ: اے آئی سے بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے مؤثر ہدایات لکھنے کی مہارت ایک الگ ہنر بنتی جا رہی ہے۔ بہت سے فری لانسرز اور کاروبار اس مہارت کی تلاش میں ہیں۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کی نوجوان آبادی اور بڑھتی ہوئی آئی ٹی انڈسٹری اے آئی کے شعبے میں غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر نوجوان جدید ٹیکنالوجی اور اے آئی مہارتوں پر توجہ دیں تو آنے والے برسوں میں یہ شعبہ ملک کے لیے اربوں ڈالر کی آمدنی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت کے ذریعے دماغی و اعصابی بیماریوں کے علاج میں امید افزا پیشرفت

میثم کے مطابق اب شاید ہی کوئی ایسی فیلڈ ہو جہاں پر اے آئی کا استعمال نہ ہو رہا ہو، ورنہ ہر شعبے میں قریباً ہر سطح پر اے آئی کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں اے آئی صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک مکمل معاشی انقلاب ہے، جو نوجوان آج اس شعبے میں مہارت حاصل کریں گے، وہ مستقبل میں نہ صرف بہتر روزگار حاصل کر سکیں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو بھی مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp