پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو شدید مندی دیکھی گئی اور بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 1806 پوائنٹس سے زائد کی کمی کے بعد 178,896 پوائنٹس پر آگیا۔ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے امکانات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا۔
کاروباری سیشن کے دوران کے ایس ای-100 انڈیکس 180,502.44 پوائنٹس پر کھلا اور ابتدائی طور پر 180,602.44 پوائنٹس کی سطح تک پہنچا، تاہم بعد ازاں فروخت کے دباؤ کے باعث تیزی سے نیچے آیا۔ دوپہر ایک بج کر 24 منٹ پر انڈیکس 1,806.12 پوائنٹس یا 0.89 فیصد کمی کے ساتھ 178,896.29 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جبکہ دورانِ کاروبار کم ترین سطح 178,488.91 پوائنٹس ریکارڈ کی گئی۔
مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر فروخت کا رجحان رہا اور آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں کے حصص نمایاں دباؤ میں رہے۔ سرمایہ کاروں نے علاقائی صورتحال کے باعث خطرات بڑھنے کے خدشات کے پیش نظر حصص فروخت کیے۔
امریکا اور ایران کے درمیان قریبی مدت میں امن معاہدے کی امیدیں کم ہونے سے خطے میں تیل کی فراہمی کے استحکام پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے بھی سرمایہ کاروں کے خدشات بڑھا دیے، جس کے نتیجے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دباؤ برقرار رہا۔
کاروباری سرگرمیاں تاہم خاصی نمایاں رہیں اور دوپہر تک تقریباً 35 کروڑ 82 لاکھ حصص کا لین دین ہوا، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 22 ارب 47 کروڑ روپے رہی۔ گزشتہ کاروباری سیشن میں کے ایس ای-100 انڈیکس 180,502.44 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، تاہم منگل کو مارکیٹ میں نمایاں گراوٹ نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا۔














