شام کی ایک عدالت نے مفرور صدر بشار الاسد کے کزن وسیم الاسد کو انسانیت کے خلاف سنگین جرائم، قتلِ عمد اور منشیات کی اسمگلنگ کے الزمات ثابت ہونے پر سزائے موت کا حکم سنا دیا ہے۔ عدالت نے ملزم کے تمام منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے بھی بحقِ سرکار ضبط کرنے کی ہدایت کی ہے۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘سانا’ کے مطابق دمشق کی چوتھی فوجداری عدالت نے سابق شامی صدر بشار الاسد کے کزن وسیم الاسد کے خلاف چلنے والے مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے انہیں سزائے موت سنائی ہے۔ عدالت نے سرکاری خزانے کے فائدے کے لیے ان کے تمام منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں کو تحویل میں لینے کا بھی حکم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے بشارالاسد دور میں لاپتا مردوخواتین کو کس طرح ٹارچر کیا جاتا تھا؟
یہ فیصلہ وسیم الاسد کے خلاف کیس کی چھٹی سماعت کے دوران سامنے آیا۔ ان پر سال 2011 کے اوائل سے فورتھ ڈویژن کے برگیڈ کمانڈر بریگیڈیئر جنرل غیاث دلا کی ہدایت پر غیر قانونی اور نام نہاد مسلح گروہ بنانے اور انہیں چلانے کا الزام تھا۔ واضح رہے کہ اس فورتھ ڈویژن کی قیادت بشار الاسد کے بھائی ماہر الاسد کر رہے تھے۔
سانا کے مطابق وسیم الاسد کے ان مسلح گروہوں نے شامی شہریوں کی آبادیوں بالخصوص جنوب مغربی شام کے علاقے مشرقی غوطہ کے قصبے ملیحہ میں فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا، جس کے نتیجے میں متعدد عام شہری لقمہ اجل بنے۔ سزائے موت کے علاوہ ان کے خلاف منشیات کی اسمگلنگ اور ارادتًا قتل کے سنگین الزامات بھی ثابت ہوئے۔
وسیم الاسد کو شامی سیکیورٹی فورسز نے 21 جون 2025 کو شام اور لبنان کی سرحد کے قریب سے گرفتار کیا تھا، جس کے بعد 24 جون سے ان کے خلاف باقاعدہ مقدمے کا آغاز ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیے ’شامی عوام پر ظلم کرنیوالے بشارالاسد کے کارندوں کو معاف نہیں کیا جائیگا‘
یاد رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ہفتے بھی ایک شامی عدالت نے سابق صدر بشار الاسد اور ان کے بھائی ماہر الاسد کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ان کی عدم موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔
واضح رہے کہ تقریباً 25 برس تک شام پر حکمرانی کرنے والے بشار الاسد 8 دسمبر 2024 کو حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد روس فرار ہو گئے تھے، جس کے ساتھ ہی 1963 سے قائم بعث پارٹی کے دہائیوں پر محیط اقتدار کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ بعد ازاں جنوری 2025 میں صدر احمد الشرع کی قیادت میں شام میں عبوری حکومت تشکیل دی گئی تھی۔














