سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کو بہتر علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے کارکنوں کو پرامن رہنے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پارٹی قیادت نے واضح کیا ہے کہ عمران خان کی مکمل صحتیابی کے بعد ہی سیاسی تحریک دوبارہ شروع کی جائےگی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، جو اس وقت پی ٹی آئی کی احتجاجی اور اسٹریٹ موومنٹ کو لیڈ کررہے ہیں، نے کارکنوں سے کہا ہے کہ عمران خان کی مکمل صحتیابی تک پرامن رہیں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جس سے عمران خان کو نقصان پہنچ سکتا ہو۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا حکم، کیا مسلم لیگ ن اس معاملے سے بالکل لاتعلق تھی؟
انہوں نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اسپتال کے اردگرد پاکستان تحریک انصاف کا کوئی کارکن جمع نہیں ہوگا۔ پارٹی قیادت اور کارکن اس یقین دہانی کی مکمل پاسداری کریں گے۔
سہیل آفریدی نے کہاکہ کارکن عمران خان کی صحت اور زندگی کے لیے فکرمند ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ اقدام کے نتیجے میں عمران خان کو نقصان پہنچا تو یہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ سب کا نقصان ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے کہاکہ سلمان اکرم راجا کی جانب سے کی گئی یقین دہانی پاکستان تحریک انصاف کی پوری قیادت اور ہر کارکن کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کارکنوں اور عمران خان سے محبت کرنے والے شہریوں پر زور دیا کہ وہ صبر و تحمل، نظم و ضبط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایسا کوئی قدم نہ اٹھائیں جس سے عدلیہ، سپریم کورٹ کے فیصلے، عمران خان یا پاکستان تحریک انصاف کی ساکھ متاثر ہو۔
کیا پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیاں معطل ہوں گی؟
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کی مکمل صحتیابی تک کارکن پرامن رہیں۔
ان کے بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حالیہ سپریم کورٹ کے فیصلے اور عدالت میں دی گئی یقین دہانی کے بعد احتجاج کی کوئی گنجائش نہیں بنتی۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیاکہ عمران خان کی مکمل صحتیابی کے بعد ہی دوبارہ سیاسی سرگرمیاں شروع کی جائیں گی۔ تاہم، انہوں نے 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کے حوالے سے کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا کہ مارچ ہوگا یا اس کی کال واپس لی جائے گی۔
سہیل آفریدی نے کہاکہ عمران خان کی صحتیابی تک مکمل ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپ سب پرامن رہیں۔ مکمل صحتیابی کے بعد آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں، جلسوں اور جلوسوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
اسلام آباد مارچ کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا
پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ پارٹی کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، کیونکہ بہتر علاج اور اسپتال منتقلی پی ٹی آئی کے اہم مطالبات میں شامل تھے۔
پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات اکرام کھٹانہ نے وی نیوز کو بتایا کہ پارٹی اس انتظار میں ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر جلد عملدرآمد ہو۔
انہوں نے کہاکہ اس وقت پی ٹی آئی کی تمام توجہ عمران خان کی صحت پر مرکوز ہے۔ سہیل آفریدی نے بھی پشاور کے جلسے میں عمران خان کو بہتر علاج کی فراہمی اور اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
اکرام کھٹانہ کے مطابق 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کے حوالے سے فی الحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ عمران خان کی اسپتال منتقلی اور ان کی صحت کی صورتحال کو دیکھنے کے بعد ہی پارٹی آئندہ کا لائحہ عمل طے کرےگی۔
انہوں نے کہاکہ سہیل آفریدی نے عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد پابندی ختم کرنے اور ان کے مقدمات کی جلد سماعت کا بھی مطالبہ کیا تھا۔
اکرام کھٹانہ نے کہاکہ اسپتال منتقلی کے بعد کچھ پتا چلے گا کہ عمران خان کس حال میں ہیں، اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ پارٹی قیادت مشاورت کررہی ہے اور محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس سے مشاورت کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ کیا جائےگا۔
مزید پڑھیں: ن لیگ کی حکومت کے خلاف ایک بار پھر سازش ہورہی ہے، سینیٹر ناصر بٹ کا دعویٰ
اکرام کھٹانہ نے کہاکہ اس وقت کچھ کہنا قبل از وقت ہے، پارٹی جب عمران خان کی صحت اور صورتحال سے مکمل طور پر مطمئن ہوگی، تب ہی آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل کا فیصلہ کرےگی۔














