نئی آٹو پالیسی پر حکومت میں اتفاق رائے، سی کے ڈی ڈیوٹی میں کمی اور ایف ای ڈی بڑھانے کی تجویز

بدھ 19 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت کے مختلف متعلقہ اداروں کے درمیان نئی آٹو پالیسی کے خدوخال پر اتفاق رائے پیدا ہونے لگا ہے۔ سابقہ آٹو پالیسی 30 جون کو ختم ہونے کے بعد گاڑیوں کی صنعت اور صارفین نئی پالیسی کے منتظر ہیں، جبکہ پالیسی میں تاخیر کے باعث صنعت کاروں نے پیداوار اور قیمتوں کے حوالے سے فیصلے مؤخر کر رکھے ہیں۔

حکومتی حلقوں کے مطابق نئی آٹو پالیسی پر وزیراعظم کو جلد بریفنگ دیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے منظوری حاصل کرنا اگلا مرحلہ ہوگا۔

نئی پالیسی کے معاملے پر وزارت صنعت و پیداوار اور وزارت تجارت کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہیں۔ وزارت صنعت و پیداوار مقامی گاڑی ساز اداروں کو موجودہ تحفظ برقرار رکھنے کے حق میں ہے جبکہ وزارت تجارت قومی ٹیرف پالیسی 2025-30 کے تحت زیادہ آزاد اور مسابقتی نظام متعارف کرانے کی خواہاں ہے۔

مزید پڑھیں:نئی آٹو پالیسی جولائی سے نافذ کرنے کا فیصلہ، چھوٹی گاڑیوں کی قیمت 20 سے 25 لاکھ روپے تک لانے کی تجویز

درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹی میں نمایاں کمی

نئی پالیسی کے تحت مکمل تیار شدہ گاڑیوں، یعنی سی بی یو، پر کسٹمز ڈیوٹی میں 50 سے 60 فیصد تک کمی کرکے مختلف انجن کیٹیگریز کے لیے اسے 30 سے 40 فیصد تک لایا گیا ہے۔ ریگولیٹری ڈیوٹی میں بھی کمی کی گئی ہے۔

تاہم مکمل تیار شدہ گاڑیوں کے مقابلے میں مقامی اسمبلی کے لیے درآمد کیے جانے والے پرزہ جات، یعنی سی کے ڈی، کی ڈیوٹی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں مقامی اسمبلرز کو حاصل تحفظ میں نمایاں کمی آئی ہے۔

اس صورتحال نے مقامی اسمبلرز میں تشویش پیدا کردی ہے کیونکہ سی بی یو اور سی کے ڈی کے درمیان ڈیوٹی کا فرق کم ہونے سے درآمد کنندگان کو مارکیٹ میں زیادہ حصہ حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ اسی خدشے کے باعث بعض اسمبلرز نے پیداوار محدود جبکہ خصوصاً پلگ اِن ہائبرڈ اور ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں کے اعلانات مؤخر کیے ہیں۔

الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں پر بھی اختلاف

بجٹ میں آٹو سیکٹر سے متعلق تبدیلیاں اس وقت سامنے آئیں جب صنعت کے مختلف دھڑے مراعات کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے اختلافات میں مصروف تھے۔ روایتی انجن والی گاڑیوں کے مینوفیکچررز نئی توانائی کی گاڑیوں کے لیے مراعات کی مخالفت کر رہے تھے، جبکہ نیو انرجی وہیکلز کے شعبے میں بھی الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے مراعات کے معاملے پر اختلاف تھا۔

الیکٹرک گاڑیوں اور رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکلز کو کم ڈیوٹی اور جی ایس ٹی کی سہولت میں ایک سال کی توسیع مل گئی، تاہم پلگ اِن ہائبرڈ اور ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے سیلز ٹیکس کی رعایت ختم ہوگئی۔

4 دہائیوں کے تحفظ پر سوال

آٹو سیکٹر کو طویل عرصے سے حاصل تحفظ کے جواز پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اصلاحات کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ قریباً 4 دہائیوں کے تحفظ کے باوجود مقامی آٹو صنعت مطلوبہ مسابقت اور پیداواری پیمانے حاصل نہیں کرسکی۔

مزید پڑھیں:بجٹ میں پرانی گاڑیاں سستی ہونے کی خوشخبری، آٹو سیکٹر کے لیے ریلیف

گزشتہ 2 آٹو پالیسیوں میں سالانہ 5 لاکھ گاڑیوں کی پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم صنعت زیادہ سے زیادہ اس ہدف کے قریباً دو تہائی تک ہی پہنچ سکی۔

اصلاحات کے حامیوں کے مطابق اس عمل کی قیمت صارفین اور قومی خزانے نے ادا کی ہے، اس لیے محدود مالی وسائل کو ایسے شعبے پر مسلسل خرچ کرنے کے بجائے ان شعبوں کی طرف منتقل کیا جانا چاہیے جہاں زیادہ معاشی فوائد حاصل ہوسکیں۔

صنعت کا مؤقف اس کے برعکس ہے۔ اسمبلرز کا کہنا ہے کہ بلند شرح سود، بھاری ٹیکسوں اور مجموعی معاشی حالات نے گاڑیوں کی طلب کو محدود رکھا، جبکہ مقامی ویلیو چین کی کمزوری بھی صنعت کو بڑے پیمانے پر پیداوار اور عالمی مسابقت حاصل کرنے سے روکتی رہی۔

صنعت کے مطابق اسٹیل، شیشہ اور دیگر بنیادی خام مال کی مقامی پیداوار نہ ہونے کے باعث پرزہ جات اور گاڑیوں کی تیاری میں مطلوبہ پیمانہ حاصل کرنا مشکل ہے۔

روزگار اور سرمایہ کاری بھی اہم معاملہ

آٹو اسمبلرز اور پرزہ جات بنانے والی صنعت براہ راست اور بالواسطہ روزگار فراہم کرتی ہے، جبکہ گزشتہ دس برس کے دوران نئے سرمایہ کاروں کی جانب سے ایک ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری بھی کی گئی ہے۔ صنعت کا مؤقف ہے کہ پالیسی میں اچانک تبدیلی سے یہ سرمایہ کاری متاثر ہوسکتی ہے۔

صنعت کی جانب سے 18 لاکھ سے 25 لاکھ ملازمتوں کے دعوے کیے جاتے ہیں، تاہم حکومتی کمیٹی کی تفصیلی غوروفکر کے بعد یہ تعداد تقریباً 3 لاکھ کے قریب بتائی گئی ہے۔

اس کے باوجود حکومت کے پاس آٹو صنعت کے مجموعی معاشی کردار، روزگار، جی ڈی پی میں حصہ، زرمبادلہ کی بچت اور ملکی انجینئرنگ بنیاد کو مضبوط بنانے میں اس کے کردار کے حوالے سے جامع اور دستاویزی تخمینہ موجود نہیں۔

سی کے ڈی ڈیوٹی میں کمی، ایف ای ڈی بڑھانے کی تجویز

ذرائع کے مطابق نئی پالیسی میں ممکنہ طور پر سی کے ڈی ڈیوٹی میں کمی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے مالیاتی اثرات کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، یعنی ایف ای ڈی، کے ذریعے متوازن کرنے کی تجویز شامل ہے۔

حکومت نئی توانائی کی گاڑیوں اور چھوٹی گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایف ای ڈی میں مختلف شرحیں مقرر کرنے پر بھی غور کرسکتی ہے۔

مزید پڑھیں:آئندہ بجٹ میں آٹو سیکٹر کو ٹیکس ریلیف دینے کی تیاری، گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا امکان

اسی طرح پلگ اِن ہائبرڈ اور ہائبرڈ گاڑیوں پر جی ایس ٹی موجودہ 25 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کیے جانے کی تجویز بھی زیرغور ہے۔ مستقبل میں الیکٹرک گاڑیوں کے بعض مقامی پرزہ جات کے لیے سی کے ڈی سطح پر محدود تحفظ برقرار رہنے کا امکان بھی ہے۔

آئی ایم ایف کی منظوری اہم مرحلہ

وزیراعظم کے دفتر سے نئی پالیسی کی منظوری کے بعد حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کرنا ہوں گے۔ آئی ایم ایف عمومی طور پر آٹو سیکٹر، خصوصاً الیکٹرک گاڑیوں کے لیے خصوصی تحفظ اور مراعات کے حق میں نہیں ہے، اس لیے نئی پالیسی کے حتمی خدوخال میں عالمی مالیاتی ادارے کا مؤقف اہم ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp