چین کی جانب سے سولر پینلز اور انورٹرز کے لیے نئے لازمی معیار کے نفاذ نے پاکستان کی تیزی سے بڑھتی سولر مارکیٹ میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کے مطابق اب صرف کم قیمت اور زیادہ واٹ والے سولر پینل خریدنا کافی نہیں ہوگا بلکہ کارکردگی، معیار، پائیداری اور مستقبل میں اسپیئر پارٹس کی دستیابی بھی اہمیت اختیار کر جائے گی۔
چین نے 27 جون 2026 کو GB 47834-2026 کے نام سے نیا لازمی قومی معیار جاری کیا ہے، جو کرسٹلائن سلیکان سولر ماڈیولز اور انورٹرز کے لیے کم از کم توانائی کی کارکردگی اور مختلف کارکردگی درجات مقرر کرتا ہے۔ یہ معیار یکم جنوری 2027 سے نافذ ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں عام طور پر دستیاب 585 واٹ کے متعدد سولر پینلز کی کارکردگی 21 سے 22.6 فیصد کے درمیان ہے، جبکہ چین کے نئے معیار کے تحت کم از کم کارکردگی 23.2 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام 585 واٹ پینلز مارکیٹ سے باہر ہوجائیں گے، بلکہ وہی ماڈلز نئے معیار پر پورا نہ اترنے کی صورت میں متاثر ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹیسلا کا ٹیکساس میں 10 ارب ڈالر کی سولر فیکٹری لگانے کا منصوبہ
چین کے نئے ضوابط کے باعث کم کارکردگی والے پینلز کی تیاری بتدریج کم یا ختم ہونے کا امکان ہے۔ تاہم پرانا اسٹاک فوری طور پر مارکیٹ سے غائب نہیں ہوگا اور ممکن ہے کہ ایسے پینلز پاکستان سمیت دیگر ممالک میں نسبتاً کم قیمت پر دستیاب رہیں۔
پاکستان جیسے ملک میں سستے سولر پینلز صارفین کو فوری طور پر پرکشش دکھائی دے سکتے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق سولر نظام طویل مدتی سرمایہ کاری ہے۔ اس لیے خریداروں کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پینل کتنا پرانا ہے، کیا اس کی تیاری اب بھی جاری ہے، وارنٹی قابلِ اعتماد ہے یا نہیں اور مستقبل میں اسی ماڈل کے متبادل پینلز اور دیگر پرزے دستیاب ہوں گے یا نہیں۔
یہ مسئلہ دیہی اور نیم شہری علاقوں میں خاص طور پر اہم ہے، جہاں کسان، چھوٹے کاروبار اور گھریلو صارفین بجلی، آبپاشی اور کاروباری ضروریات کے لیے سولر نظام پر انحصار کر رہے ہیں۔ ابتدائی خریداری میں ہونے والی معمولی بچت بعد میں وارنٹی، مرمت یا متبادل پینل کی عدم دستیابی کی صورت میں مہنگی پڑ سکتی ہے۔

چین کے نئے معیار سے سولر صنعت میں ایک بڑی تبدیلی کا بھی اشارہ ملتا ہے، جہاں زیادہ مؤثر اور بہتر معیار کی ٹیکنالوجی کو ترجیح دی جارہی ہے۔ پاکستان میں بھی سولر مارکیٹ اب صرف پینلز کی تنصیب تک محدود نہیں رہی بلکہ گھریلو اور کاروباری صارفین بیٹری اسٹوریج کی جانب بھی بڑھ رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سولر مارکیٹ کے اگلے مرحلے میں توجہ صرف زیادہ پینلز لگانے کے بجائے ایسے مکمل نظام کی تشکیل پر ہوگی جو زیادہ مؤثر، پائیدار، قابلِ اعتماد اور طویل عرصے تک قابلِ استعمال رہیں۔ ایسے میں پاکستانی خریداروں کے لیے صرف ’’کم قیمت‘‘ کے بجائے ’’طویل مدتی قدر‘‘ کو فیصلہ کن معیار بنانا زیادہ اہم ہوگا۔














