وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بجٹ سازی اور ٹیکس پالیسی کی تیاری میں پارلیمنٹ اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت ضروری ہے، حکومت ایسا نظام تشکیل دینا چاہتی ہے جس سے عوام کو سہولت ملے اور انہیں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ بجٹ اسکیم کو بہتر بنانے کے لیے مشاورتی عمل کو مؤثر بنایا جا رہا ہے، مختلف طبقات اور شعبوں کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر پالیسی سازی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ہر طبقے کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے، کسی ایک طبقے کو نظرانداز کرکے ملک کا نظام نہیں چل سکتا۔ 25 سے 26 کروڑ آبادی کے ملک کو آسان اور بہتر نظام فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، عوام کے لیے نظام کو آسان اور مؤثر بنانا حکومت کی بنیادی ترجیح ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ چھوٹے دکانداروں کے لیے ٹیکس اسکیم کو آسان اور اختیاری بنایا گیا ہے۔ چھوٹے دکاندار چاہیں تو اس اسکیم کے بجائے معمول کے ٹیکس نظام میں رہ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دکانداروں کے لیے نئی اسکیم میں چند اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں اور چھوٹے دکانداروں اور دیگر کاروباری طبقات کے درمیان واضح تفریق رکھی گئی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ٹیکس نظام میں ہر طبقے کو ساتھ لے کر چلا جائے اور کسی طبقے کو یہ شکایت نہ ہو کہ اس پر دوسرے طبقات کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔
محمد اورنگزیب نے دکانداروں سے اپیل کی کہ وہ نئی اسکیم میں شامل ہوکر اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے، ان کے خلاف آئندہ ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کا مقصد ہر کاروباری طبقے کو قومی ٹیکس دائرے میں لانا اور ٹیکس نظام میں ہر طبقے کی شمولیت یقینی بنانا ہے۔ نئی اسکیم کی کامیابی کے لیے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کا تعاون بھی ضروری ہے۔
تاجروں کی مشاورت سے اسکیم تیار کی گئی، اظہر کیانی
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ تاجر برادری کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، تاجروں کی مشاورت اور رہنمائی سے نئی اسکیم تیار کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاجر برادری سے مشاورت کے بعد اسکیم کو حتمی شکل دی گئی، جبکہ تاجروں کے لیے تیار کردہ اسکیم کا آج باقاعدہ عملی آغاز ہوگیا ہے۔
مزید پڑھیں:آزاد کشمیر انتخابات: پیپلز پارٹی الزامات سے اپنی ناکامی نہیں چھپا سکتی، بلال اظہر کیانی
بلال اظہر کیانی کے مطابق اسکیم کا اعلان 5 جون کو وزیر خزانہ کی زیر صدارت تقریب میں کیا گیا تھا، جبکہ بجٹ پیش ہونے کے بعد اس کے عملی نفاذ کے لیے تیاریوں کا آغاز کیا گیا۔
نئی تاجر اسکیم سے غیر رجسٹرڈ دکاندار بھی فائدہ اٹھا سکیں گے، اظہر کیانی
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ نئی تاجر اسکیم ان دکانداروں کے لیے بھی دستیاب ہے جو پہلے ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں تھے۔ سالانہ 20 کروڑ روپے تک فروخت کرنے والے دکاندار اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دکاندار ’آسان تاجر ایپ‘ کے ذریعے سادہ فارم پُر کرکے اسکیم میں رجسٹریشن کراسکتے ہیں، جبکہ ایپ گوگل پلے اسٹور سے ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہے۔
اظہر کیانی کے مطابق رجسٹریشن کے دوران دکاندار کو پی ایس آئی ڈی جاری کیا جائے گا، جس کے ذریعے فیس کی ادائیگی کی جاسکے گی۔ فیس جمع کرانے کے بعد دکاندار کو ایک سال کے لیے اسکیم میں شمولیت کی تصدیق فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اسکیم میں شامل دکانداروں کو مقررہ مراعات اور فوائد حاصل ہوں گے، جبکہ انہیں ایف بی آر افسران کی غیرضروری پوچھ گچھ سے بھی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ رجسٹرڈ دکاندار کو متعلقہ پلیٹ یا سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا جائے گا۔
تاجروں کو آمدن کے مطابق ٹیکس دینا چاہیے، کاشف چودھری
تاجر رہنما کاشف چودھری نے کہا ہے کہ معیشت کی بہتری کے لیے جامع اور مستقل بنیادوں پر حکمت عملی ضروری ہے۔ حکومت اور تاجر برادری مل کر آگے بڑھیں تو معاشی مشکلات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ہر کمانے والے شہری کو اپنی آمدن کے مطابق ٹیکس ادا کرنا چاہیے، کیونکہ ٹیکس کی ادائیگی ہر شہری کی ذمہ داری اور قومی فرض ہے۔ ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ہر شخص کو ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
کاشف چودھری کے مطابق تاجروں کے پاس ریٹرن فائل کرنے اور نئی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کا اختیار موجود ہے۔ کم آمدن والے دکانداروں کے لیے کم از کم 25 ہزار روپے سالانہ ٹیکس مقرر کیا گیا ہے، جبکہ 20 کروڑ روپے تک سالانہ ٹرن اوور والے دکانداروں کے لیے ٹیکس ایک فیصد تک ہوگا۔
مزید پڑھیں:پوری قوم دہشتگردی کے خاتمے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، بلال اظہر کیانی
انہوں نے کہا کہ اسکیم میں شامل تاجروں کو عمومی آڈٹ سے استثنا سمیت دیگر سہولیات حاصل ہوں گی۔ تاجروں کے لیے یہ اسکیم کئی ماہ کی مشاورت کے بعد سامنے آئی ہے اور اب تاجروں کے پاس اس سے فائدہ اٹھانے کا واضح آپشن موجود ہے۔
کاشف چودھری نے کہا کہ تاجروں کو اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ریٹرن فائل کرنا چاہیے، جبکہ حکومت اور تاجر برادری کے درمیان مشاورت کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہنا چاہیے۔
تاجروں میں خوف کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے، راشد لنگڑیال
چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا ہے کہ تاجروں میں خوف کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے اور کاروباری طبقے کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ تاجر اپنی آمدن کے مطابق ٹیکس ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم کاروباری طبقے کو بلاجواز چھاپوں، جرمانوں اور گرفتاریوں سے تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔
راشد لنگڑیال کے مطابق بہتر کاروباری ماحول کے بغیر ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا مشکل ہوگا۔ ایف بی آر اور تاجر برادری مل کر ملک کو معاشی طور پر آگے لے جاسکتے ہیں۔
مزید پڑھیں:جب کہانی ’عبداللہ حسین‘ کے گلے پڑ گئی
انہوں نے کہا کہ تاجروں پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کے ساتھ ان کی کاروباری مشکلات کا بھی ازالہ ضروری ہے۔ حکومت اور تاجروں کے باہمی تعاون سے ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اور ملکی معاشی نظام کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔














