کینسر کے خلاف جنگ میں ایک نئی تاریخی کامیابی سامنے آئی ہے جہاں امریکی ادویات ساز کمپنیوں ‘موڈرنا’ اور ‘مرِک’ کی تیار کردہ ‘پرسیلائزڈ’ ویکسین نے جلد کے موذی کینسر ‘میلانُوما’ کینسر کے تیسرے اور آخری اسٹیج کے کلینیکل ٹرائلز میں نمایاں کامیابی حاصل کر لی ہے۔
امریکی دوا ساز کمپنی موڈرنا اور عالمی دوا ساز ادارے مرک نے اعلان کیا ہے کہ ان کی مشترکہ طور پر تیار کردہ تجرباتی ذاتی نوعیت کی کینسر ویکسین نے میلانُوما کے خلاف تیسرے اور آخری مرحلے کے طبی تجربے کے اہم اہداف حاصل کرلیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:مجھے کینسر نہیں ہے، مریم نواز کو کونسی بیماری ہے انہوں نے خود بتادیا
یہ ویکسین، جسے وَی 940 اور ایم آر این اے 415 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، مرک کی مدافعتی علاج کی دوا کی ٹروڈا کے ساتھ استعمال کی گئی۔
کمپنیوں کے مطابق اس امتزاجی علاج نے صرف کی ٹروڈا کے مقابلے میں کینسر کے دوبارہ نمودار ہونے کے امکانات کم کرنے کے ساتھ ساتھ بیماری کے جسم کے دوسرے حصوں تک پھیلنے کے خطرے کو بھی کم کیا۔
یہ کامیابی اس لیے بھی اہم قرار دی جارہی ہے کہ ذاتی نوعیت کی میسنجر آر این اے پر مبنی کینسر تھراپی کے بڑے پیمانے پر آخری مرحلے کے تجربے میں کامیابی ایک اہم پیش رفت ہے۔
1,137 مریضوں پر آزمائش
تیسرے مرحلے کے طبی تجربے میں 1,137 ایسے مریض شامل تھے جنہیں دوسرے سے چوتھے درجے تک کا زیادہ خطرناک میلانُوما لاحق تھا اور جن کے ٹیومر سرجری کے ذریعے نکالے جاچکے تھے۔
تحقیق کا بنیادی مقصد یہ جانچنا تھا کہ ویکسین اور کی ٹروڈا کا امتزاج مریضوں میں کینسر کی دوبارہ واپسی کو کس حد تک روک سکتا ہے، جبکہ کینسر کے دور دراز حصوں تک پھیلاؤ کو روکنا اہم ثانوی ہدف تھا۔
مزید پڑھیں:معروف دوا صرف ایک بیماری تک محدود نہیں، تحقیق میں حیران کن طبی فائدہ سامنے آگیا
کمپنیوں کے مطابق دونوں اہم اہداف حاصل ہوگئے ہیں۔ تاہم مکمل تفصیلی اعداد و شمار بعد میں طبی ماہرین کے سامنے پیش کیے جائیں گے، اس لیے موجودہ نتائج کو ابتدائی نتائج کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
ہر مریض کے لیے الگ ویکسین کیسے تیار ہوگی؟
اس ویکسین کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا ذاتی نوعیت کا طریقہ علاج ہے۔ عام ویکسین کے برعکس اسے ہر مریض کے ٹیومر میں موجود مخصوص جینیاتی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جاتا ہے۔
مریض کے ٹیومر کا تجزیہ کرکے ان مخصوص تبدیلیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے جنہیں مدافعتی نظام ہدف بنا سکتا ہے۔ اس کے بعد ویکسین مریض کے مدافعتی نظام کو ان مخصوص کینسر زدہ خلیوں اور علامات کو پہچاننے اور ان کے خلاف حملہ کرنے کے لیے متحرک کرتی ہے۔
دوسری جانب کی ٹروڈا ایک مدافعتی علاج ہے جو مدافعتی نظام کے کینسر کے خلیوں کو شناخت کرکے ان کے خلاف کارروائی کرنے کی صلاحیت کو بہتر بناتی ہے۔
یوں دونوں علاج مختلف طریقوں سے کام کرتے ہوئے کینسر کے خلاف جسم کے مدافعتی ردعمل کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
پہلے کے نتائج نے بھی دی تھی امید
حالیہ تیسرے مرحلے کی کامیابی سے قبل موڈرنا اور مرک کے دوسرے مرحلے کے طبی تجربے میں بھی حوصلہ افزا نتائج سامنے آچکے تھے۔
جنوری 2026 میں جاری کیے گئے 5 سالہ جائزے کے مطابق ویکسین اور کی ٹروڈا کے امتزاج نے صرف کی ٹروڈا کے مقابلے میں کینسر کی واپسی یا موت کے خطرے میں 49 فیصد کمی دکھائی تھی۔
بعد ازاں جون 2026 میں پیش کیے گئے مزید 5 سالہ اعداد و شمار میں جسم کے دور دراز حصوں میں کینسر پھیلنے یا موت کے خطرے میں 59 فیصد کمی رپورٹ ہوئی۔
ان حوصلہ افزا نتائج کے بعد بڑے پیمانے پر تیسرے مرحلے کا طبی تجربہ کیا گیا، جس میں ایک ہزار سے زیادہ مریض شامل تھے۔
ضمنی اثرات کے حوالے سے کیا معلوم ہوا؟
کمپنیوں کے مطابق تیسرے مرحلے کے تجربے میں کوئی نیا حفاظتی خدشہ سامنے نہیں آیا۔ تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس ویکسین کے کوئی قابل ذکر ضمنی اثرات نہیں ہیں۔
اس سے قبل کیے گئے تجربے میں تھکن، انجیکشن لگنے کی جگہ درد اور سردی لگنا عام ضمنی اثرات میں شامل تھے۔ زیادہ تر ضمنی اثرات ہلکے یا درمیانے درجے کے تھے۔
میلانُوما کتنا سنگین مرض ہے؟
میلانُوما جلد کے سرطان کی ایک سنگین قسم ہے جو جلد کے رنگ پیدا کرنے والے خلیوں سے شروع ہوتی ہے اور بعض صورتوں میں تیزی سے جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سبزی، پھلوں اور پانی کے ذریعے پہنچ کر پیٹ شدید خراب کرنے والا جرثومہ کونسا، بچا کیسے جائے؟
امریکی قومی ادارہ برائے سرطان کے اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں امریکا میں تقریباً 1,573,288 افراد جلد کے میلانُوما کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔
ایسے مریض جن میں بیماری دوبارہ نمودار ہونے یا جسم کے دوسرے حصوں تک پھیلنے کا خطرہ زیادہ ہو، ان کے لیے جراحی کے بعد سرطان کی واپسی روکنا علاج کا ایک اہم مقصد سمجھا جاتا ہے۔
اب اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟
تیسرے مرحلے کے مثبت نتائج موڈرنا اور مرک کے لیے اس علاج کو منظوری کے عمل کی جانب لے جانے میں اہم بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ تاہم کامیاب طبی تجربے کے بعد بھی کسی دوا یا ویکسین کو فوری طور پر منظوری نہیں ملتی۔
کمپنیوں کو مکمل طبی اعداد و شمار متعلقہ ضابطہ کار اداروں کے سامنے پیش کرنا ہوں گے، جس کے بعد ماہرین اس کی افادیت، تحفظ اور ممکنہ خطرات کا جائزہ لیں گے۔
اگر یہ علاج منظور ہوجاتا ہے تو اسے ذاتی نوعیت کے سرطان کے علاج میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جاسکتا ہے، کیونکہ اس کا بنیادی تصور ہر مریض کے ٹیومر کی منفرد جینیاتی خصوصیات کو علاج کا مرکز بنانا ہے۔














