شمالی کوریا کا ایک بار پھر بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ، علاقائی ممالک کا اظہارِ تشویش

جمعرات 6 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شمالی کوریا نے کئی ہفتوں کے وقفے کے بعد مشرقی ساحل کی جانب مختصر فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل داغ دیا، جس کے بعد خطے میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے۔ جنوبی کوریا نے اضافی فوجی نگرانی بڑھاتے ہوئے امریکا اور جاپان کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

مشرقی ساحل سے میزائل داغ دیا گیا

جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق جمعرات کی شام تقریباً 5:00  بجے شمالی کوریا کے مشرقی ساحلی شہر وونسان سے مختصر فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل داغا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کا امریکی فوج پر اچانک میزائل حملہ ناکام، تمام بیلسٹک میزائل فضا ہی میں تباہ کرنے کا دعویٰ

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے اپنے بیان میں کہا کہ میزائل لانچ کے بعد ممکنہ مزید سرگرمیوں کے پیش نظر نگرانی اور دفاعی تیاریوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ امریکا اور جاپان کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بھی جاری ہے۔

جاپان کا ردعمل

جاپان کی وزارت دفاع نے بھی شمالی کوریا کی جانب سے ممکنہ بیلسٹک میزائل داغے جانے کی تصدیق کی، تاہم کہا کہ جاپان یا اس کے اطراف کے علاقوں پر اس کا کوئی نمایاں اثر نہیں پڑا۔

ہتھیاروں کے مسلسل تجربات

حالیہ میزائل تجربہ شمالی کوریا کی جانب سے کیے جانے والے ہتھیاروں کے مسلسل تجربات کی تازہ کڑی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران پیانگ یانگ نے اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو تیزی سے وسعت دی ہے۔

مزید پڑھیں:پاک بحریہ کا مقامی اینٹی شپ بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ، طویل فاصلے پر ہدف تباہ

واضح رہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن عالمی سطح پر اپنے ملک کو ایک جوہری طاقت کے طور پر تسلیم کرانا چاہتے ہیں تاکہ اس بنیاد پر بین الاقوامی اقتصادی پابندیاں ختم کرانے کے لیے دباؤ بڑھایا جا سکے۔

بحری دفاع پر بھی توجہ

رواں عرصے میں کم جونگ اُن نے نئے 5,000 ٹن وزنی جنگی بحری جہاز پر نصب جوہری صلاحیت کے حامل میزائل سمیت مختلف ہتھیاروں کے تجربات کا بھی جائزہ لیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا اب بیلسٹک میزائل پروگرام کے ساتھ ساتھ اپنی بحری عسکری قوت بڑھانے پر بھی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جس میں جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوز کی تیاری بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا نے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کرنے سے قبل آگاہ کیا تھا: روس کا دعویٰ

شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان تعلقات 2019 میں اس وقت تعطل کا شکار ہو گئے تھے جب کم جونگ اُن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اعلیٰ سطح کے سفارتی مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ اس کے بعد پیانگ یانگ نے اپنے جوہری اور میزائل پروگرام میں نمایاں تیزی لائی۔

حالیہ برسوں میں شمالی کوریا نے روس کے ساتھ اپنے تعلقات بھی مزید مضبوط کیے ہیں۔ مغربی ممالک کے مطابق پیانگ یانگ روس کو روایتی ہتھیار اور فوجی افرادی قوت فراہم کر چکا ہے، جس کے باعث خطے اور عالمی سطح پر سکیورٹی خدشات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ: اسلام آباد تینوں ممالک کے پرچموں اور برقی قمقموں سے جگمگا اٹھا

حکومت کا بجلی کی 3 بڑی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ

جماعت اسلامی نے 9 اگست کا احتجاج مؤخر کردیا، پیٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنوں کی نئی تاریخ کا اعلان

اوپن اے آئی کے نئے ماڈل ’ایسٹرا‘ میں خطرناک سیکیورٹی خدشات کا انکشاف، ڈیولپنگ کام عارضی معطل

میر رضا علی کیس: پولیس تفتیش کے بجائے خاندان کو ہراساں کررہی ہے، وکیل نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا

ویڈیو

کشمیری پاکستان کے مالک ہیں، مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت دلائیں گے، رانا ثنا اللہ کا ضلع باغ میں جلسہ عام سے خطاب

وزیراعظم شہباز شریف مدینہ منورہ سے روانہ، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد مسجد نبویؐ میں حاضری

پی ٹی آئی اسلام آباد مارچ کے اعلان پر خیبر پختونخوا کے اراکین کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

پرانی کتابوں کا اتوار بازار

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر