کابل کے مغربی علاقے میں اسکول میں ہونے والے دھماکے کے بعد طالبان نے اسکول کے پرنسپل، ایک استاد اور 2 طالب علموں کے والد سمیت 4 افراد کو حراست میں لے لیا۔
مزید پڑھیں:تاجکستان میں گرفتاری اور کابل دھماکے، افغانستان پھر دہشتگردی کا گڑھ بن رہا ہے؟
مقامی ذرائع کے مطابق طالبان نے 18 اگست کو شَمِ ہدایت اسکول کے پرنسپل باقر صمیم، ایک استاد اور 2 طلبا کے والد کو حراست میں لیا، جنہیں کابل کے 18ویں پولیس ڈسٹرکٹ منتقل کیا گیا۔ طالبان انتظامیہ نے تاحال گرفتاریوں کی وجہ یا ممکنہ محرکات کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی۔
دھماکا 17 اگست کو کابل کے مغربی علاقے مہدیہ ٹاؤن شپ میں واقع نجی شَمِ ہدایت اسکول میں ہوا تھا، جس کے نتیجے میں قریباً 50 افراد زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر اسکول کے بچے شامل تھے۔ ایک اسپتال سے حاصل فہرست کے مطابق کم از کم 19 زخمیوں میں 14 لڑکیاں شامل ہیں، جن کی عمریں 9 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔
🚨🇦🇫 BREAKING: A bomb just went off at a private school in Kabul, Afghanistan
The school sits in a Hazara neighborhood; Shia Muslims who’ve been targeted repeatedly over the years.
Nobody’s claimed it yet, but the pattern speaks for itself.
Source: @TabzLIVE on TG / Writer:… pic.twitter.com/RkaAc1XcGG
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) August 17, 2026
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ابتدائی طور پر دھماکے میں داعش یا اس سے وابستہ گروہوں کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ ان کے مطابق ابتدائی معلومات میں بتایا گیا کہ اسکول میں دستی بم پھینکا گیا، جس سے قریباً 25 طلبا زخمی ہوئے۔
مزید پڑھیں:خضداراسکول بس دھماکا: ایک باپ جس کی دنیا ہی لٹ گئی
دھماکے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔














