بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے علاقے روہنی میں فلم ’اسپیشل 26‘ طرز کا جعلی سی بی آئی چھاپہ مارنے کی کوشش ناکام ہوگئی، تاجر کی اہلیہ نے گھر کا دروازہ کھولنے سے انکار کرتے ہوئے مبینہ اہلکاروں سے شناخت اور سرچ وارنٹ طلب کرلیا۔
مزید پڑھیں:سابق بس ڈرائیور کے گھر چھاپہ، ساڑھے 5 کروڑ روپے نقد اور 15 کلو سونا برآمد
بھارتی میڈیا کے مطابق 8 سے 10 افراد پر مشتمل گروپ نے خود کو مرکزی تحقیقاتی ادارے (سی بی آئی) کے اہلکار ظاہر کرتے ہوئے تاجر کے گھر پر چھاپہ مارنے کی کوشش کی۔ گھر میں موجود تاجر کی اہلیہ نے انہیں اندر آنے کی اجازت دینے کے بجائے شناختی دستاویزات اور باقاعدہ سرچ وارنٹ دکھانے کا مطالبہ کیا۔
خاتون کے مطابق مبینہ اہلکاروں نے دباؤ ڈالنے اور دھمکانے کی کوشش بھی کی، تاہم وہ اپنے مؤقف پر ڈٹی رہیں۔ مشتبہ افراد قریباً 90 منٹ تک گھر کے باہر موجود رہے، جس دوران علاقے کے رہائشی بھی جمع ہوگئے اور ان سے شناخت اور چھاپے کے اجازت نامے کا مطالبہ کیا۔
Delhi -Rohini
‘Special 26’-Style Fake CBI Raid Foiled in Rohini, Delhi; Wife’s Presence of Mind Saves Family
No FIR from Delhi Police
– A ‘Special 26’-style fake CBI raid was allegedly attempted at a businessman’s residence in Rohini, Delhi, but was foiled after his wife… pic.twitter.com/Z3Jxtv6wbq
— Atulkrishan (@iAtulKrishan1) August 19, 2026
مبینہ اہلکاروں نے دعویٰ کیا کہ ضروری دستاویزات گاڑی میں موجود ہیں اور انہیں لانے کا کہہ کر موقع سے چلے گئے، تاہم دوبارہ واپس نہیں آئے۔ واقعے کی اطلاع پولیس کو ایمرجنسی ہیلپ لائن پر دی گئی، جس کے بعد پولیس ٹیم موقع پر پہنچی اور اہلخانہ کا بیان ریکارڈ کیا۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے، جس میں مبینہ جعلی سی بی آئی ٹیم کو تاجر کے گھر کے باہر دیکھا جاسکتا ہے۔ پولیس فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ ملزمان کی تعداد اور ان کی جانب سے استعمال کی جانے والی گاڑی کا سراغ لگایا جاسکے۔
مزید پڑھیں:کراچی: ثروت اعجاز قادری کی رہائشگاہ پر پولیس کا چھاپہ، بھتہ خوری میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کا دعویٰ
اہلخانہ نے پولیس کو بتایا کہ مشتبہ افراد نے سی بی آئی کے لوگو والے کپڑے پہن رکھے تھے اور خود کو اصلی اہلکار ظاہر کرنے کے لیے شناختی کارڈ بھی دکھائے۔ بعد ازاں تاجر کے سسر کو واٹس ایپ پر سی بی آئی ڈائریکٹر کے نام اور دستخط سے ایک مبینہ نوٹس بھی موصول ہوا، جسے بعد میں حذف کردیا گیا، تاہم اہلخانہ نے اس کا اسکرین شاٹ محفوظ کرکے پولیس کے حوالے کردیا۔
پولیس مبینہ نوٹس کی حقیقت اور واقعے میں ملوث افراد کی شناخت کی تحقیقات کر رہی ہے۔














