ڈیجیٹل ویڈیو پلیٹ فارمز کے درمیان بڑھتی ہوئی عالمی مسابقت کے پیشِ نظر، یوٹیوب نے اپنے ٹاپ کنٹینٹ کری ایٹرز کو ‘نیٹ فلکس’ پر جانے سے روکنے اور مواد کو اپنے پلیٹ فارم تک محدود رکھنے کے بدلے کروڑوں ڈالرز کے مالیاتی پیکیج کی پیشکش کی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق یوٹیوب کنٹینٹ کری ایٹرز کو رقم کی ادائیگی 2 مختلف طریقوں سے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یوٹیوب کا ویوز شمار کرنے کا نیا معیار، 24 اگست سے اہم تبدیلی کا اعلان
ان میں مخصوص پروگراموں کی براہِ راست فنڈنگ اور بڑے پیمانے کی تجارتی شراکت داریوں سے حاصل ہونے والے ریونیو کا حصہ شامل ہے۔

اگرچہ ابھی تک باضابطہ معاہدے طے نہیں پائے، تاہم یوٹیوب متعدد معروف کری ایٹرز کے ساتھ ڈیلز کو حتمی شکل دینے کے انتہائی قریب پہنچ چکا ہے۔
نیٹ فلکس پر جانے والوں کو سخت انتباہ
یوٹیوب کے اعلیٰ حکام نے اپنے کری ایٹرز کو خبردار بھی کیا ہے کہ جو افراد نیٹ فلکس پر اپنا مواد پیش کریں گے یا وہاں لائیو اسٹریمنگ کریں گے، انہیں یوٹیوب کی مارکیٹنگ مہمات سے الگ کر دیا جائے گا۔
YouTube is reportedly offering its biggest creators millions of dollars to keep their content off Netflix
The platform wants creators to post videos on YouTube first, with those who don’t potentially facing consequences pic.twitter.com/tufOex7SoR
— Dexerto (@Dexerto) August 20, 2026
مزید برآں ایسے کری ایٹرز بڑے برانڈز کے ساتھ ہونے والی منافع بخش ڈیلز اور ان کے نتیجے میں حاصل ہونے والی آمدنی سے بھی محروم ہو سکتے ہیں۔
یوٹیوب بمقابلہ نیٹ فلکس، معاشی دوڑ
موجودہ دور میں یوٹیوب دنیا بھر میں کسی بھی دوسرے اسٹریمنگ سروس کے مقابلے میں زیادہ بڑا اور وسیع ناظرین کا طبقہ رکھتا ہے۔
مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال یوٹیوب کی کل آمدنی60 ارب ڈالرز سے تجاوز کر گئی تھی، جو اسی سال ‘نیٹ فلکس’ کی مجموعی آمدنی سے کہیں زیادہ تھی۔
مزید پڑھیں:بچے بگڑ رہے ہیں تو والدین کہاں ہیں؟ یوٹیوبر ڈکی بھائی نے بڑا سوال اٹھا دیا
اس کے علاوہ یوٹیوب گزشتہ 4 سالوں کے دوران اپنے کری ایٹرز کو 100 ارب ڈالرز سے زیادہ رقم تقسیم کر چکا ہے۔
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب یوٹیوب نے رقابت کے میدان میں اپنے کری ایٹرز کی وفاداری برقرار رکھنے کے لیے مالیاتی بونس کا سہارا لیا ہو۔
اس سے قبل یوٹیوب نے ‘ویسل’ نامی اسٹارٹ اپ کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے بھی کری ایٹرز کو اضافی رقوم کی ادائیگی کی تھی، جو ان کا مواد پہلے حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
دوسری جانب نیٹ فلکس نے بھی نوجوان ناظرین کو متوجہ کرنے کے لیے یوٹیوب کے مقبولِ عام ڈیجیٹل مواد جیسے ‘کوکومیلن’ کے لائسنس حاصل کیے ہیں، جس کے بعد دونوں اداروں کے درمیان مواد کی بالادستی کے لیے ایک نئی معاشی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔














