امریکی سینیٹرز مارشا بلیک برن اور رچرڈ بلومینتھل نے ٹک ٹاک کو ایک اندرونی تجربے سے متعلق وضاحت پیش کرنے کے لیے یکم ستمبر تک کی مہلت دے دی۔
دونوں سینیٹرز نے ٹک ٹاک کے چیف ایگزیکٹو شو زی چیو اور ٹک ٹاک امریکا آپریشنز کے سربراہ ایڈم پریسر کو 4 صفحات پر مشتمل خط ارسال کیا ہے، جس میں کمپنی کے اس فیصلے کو ’انتہائی غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:ٹک ٹاک صارفین اب دوستوں کو پیغام کے ساتھ رقم بھی بھیج سکیں گے
یہ معاملہ 2023 کی ایک خفیہ اندرونی دستاویز سے متعلق ہے، جس کا حوالہ بلومبرگ بزنس ویک کی ایک رپورٹ میں دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک نے 2021 میں خطرناک مواد سے صارفین کو بچانے کے لیے اپنے الگورتھم میں تبدیلی کی تھی، تاہم یہ تبدیلی تمام صارفین پر لاگو نہیں کی گئی۔
قریباً 10 فیصد امریکی صارفین، یعنی لگ بھگ ڈیڑھ کروڑ افراد کو ایک کنٹرول گروپ میں رکھا گیا، جس پر حفاظتی تبدیلی نافذ نہیں کی گئی۔ کمپنی کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ زیادہ محفوظ الگورتھم سے ایپ پر صارفین کی سرگرمی اور مشغولیت میں کمی تو نہیں آتی۔
اس گروپ میں نیویارک کے شہر بے پورٹ سے تعلق رکھنے والا 16 سالہ چیس ناسکا بھی شامل تھا، جسے جنوری 2022 میں غیر محفوظ گروپ کا حصہ بنایا گیا۔ اگلے چند ہفتوں کے دوران اسے اداسی، تنہائی اور خودکشی سے متعلق ویڈیوز مسلسل دکھائی دیتی رہیں اور ایک ماہ کے اندر اس نے خودکشی کرلی۔
مزید پڑھیں:ٹک ٹاک نے لاکھوں صارفین سے حفاظتی فیچر جان بوجھ کر چھپایا، لیک رپورٹ میں انکشاف
بلیک برن اور بلومینتھل، جو بچوں کے آن لائن تحفظ کے قانون کے شریک مصنفین ہیں، نے ٹک ٹاک سے 13 سوالات کے جواب طلب کیے ہیں۔ ان میں یہ سوال بھی شامل ہیں کہ کمپنی کے اندر اس تجربے سے کون کون واقف تھا، بچوں کو کنٹرول گروپ میں رکھنے کی کیا وجوہات تھیں اور امریکا میں ایسے تمام الگورتھم تجربات کی مکمل فہرست کیا ہے جن میں کسی حفاظتی فیچر کو غیر فعال رکھا گیا۔
بچوں کی آن لائن حفاظت کے معاملے پر دونوں سینیٹرز اس سے قبل بھی ٹک ٹاک سے دستاویزات طلب کرچکے ہیں۔ بلومبرگ کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد گزشتہ ماہ سینیٹ کی کامرس کمیٹی نے بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق قانون کی منظوری بھی دی تھی۔













