امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تجارتی خلائی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر اضافے کے لیے نئی یادداشت پر دستخط کردیے، جس کے تحت امریکا 2030 تک خلائی گاڑیوں کی سالانہ لانچنگ اور واپسی کی تعداد ایک ہزار تک پہنچانے کا ہدف حاصل کرے گا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق نئی پالیسی کا مقصد تجارتی خلائی نقل و حمل کو تیز کرنا، خلائی اڈوں کی تعمیر اور اجازت ناموں کے عمل کو آسان بنانا اور نجی شعبے کے لیے خلائی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت ماحولیاتی جائزوں اور اجازت ناموں کے عمل میں تیزی لانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ خلائی اڈوں کی تعمیر میں تاخیر کم کی جاسکے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی اداروں کو تجارتی خلائی لانچز کے لیے مناسب وائرلیس اسپیکٹرم مختص کرنے اور نجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر خلائی نقل و حمل کا بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے کی ترغیب دینے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
President Trump signed a memo to help drastically increase the number of US commercial space launches, including directing government agencies to look at federal land for new launch and re-entry sites https://t.co/sq7efJOc0A
— Reuters (@Reuters) August 21, 2026
امریکا نے گزشتہ سال 178 خلائی لانچز اور دوبارہ داخلے مکمل کیے تھے، جو 2013 کے مقابلے میں تقریباً 10 گنا زیادہ ہیں۔ ان سرگرمیوں میں ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کا نمایاں کردار ہے، جس نے 2025 میں 170 لانچز کیے اور تقریباً 2 ہزار 500 سیٹلائٹس مدار میں بھیجے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کا مقصد امریکا کو خلائی شعبے میں عالمی قیادت برقرار رکھنے کے قابل بنانا ہے۔ وائٹ ہاؤس آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی کے ڈائریکٹر مائیکل کریٹسیوس نے کہا کہ نئی قومی خلائی نقل و حمل پالیسی خلائی شعبے میں تیزی سے ہونے والی ترقی کے پیش نظر امریکا کو اگلے دور کی قیادت کے لیے تیار کرے گی۔
نئی پالیسی کے تحت ناسا کو چاند تک تجارتی نقل و حمل کو فروغ دینے، مریخ تک تجارتی روبوٹک مشنز کی راہ ہموار کرنے اور مستقبل میں انسانوں کو مریخ بھیجنے کے لیے تجارتی امکانات تلاش کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا کم جونگ اُن سے ملاقات کا اعلان، شمالی کوریا کے پاس 57 جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کا دعویٰ
ٹرمپ 2028 تک امریکی خلابازوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنا چاہتے ہیں، جبکہ 2030 تک چاند پر ابتدائی مستقل اڈے کے قیام کی بنیاد رکھنے کا بھی منصوبہ ہے۔ امریکی صدر نے وفاقی سطح پر خلائی گاڑیوں کی دوبارہ زمینی واپسی کے لیے نئی جگہ کی نشاندہی 90 روز کے اندر کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر اسپیس ایکس نے رواں سال جنوری میں کہا تھا کہ وہ زمین کے گرد 10 لاکھ سیٹلائٹس پر مشتمل ایک وسیع نیٹ ورک قائم کرنا چاہتی ہے، جبکہ امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے سربراہ کے مطابق کمپنی آئندہ 5 برس میں سالانہ 10 ہزار لانچز تک پہنچنے کا ہدف رکھتی ہے۔













