پاکستان میں 5 جی خدمات کے آغاز اور توسیع کے لیے ٹیلی کام کمپنیوں نے مجموعی طور پر تقریباً 17 کروڑ 86 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جبکہ ملک بھر میں 1,136 موبائل سائٹس کو فائیو جی کے لیے اپ گریڈ کیا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں 5 جی کی تیاری: جاز اور زونگ نے سینکڑوں ہم آہنگ موبائل فونز کی فہرست جاری کردی
وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جاز نے جون 2026 تک 5 جی کی تنصیب پر 5 کروڑ 96 لاکھ 70 ہزار ڈالر خرچ کیے جبکہ زونگ کی سرمایہ کاری 9 کروڑ 89 لاکھ ڈالر اور یوفون کی تقریباً 2 کروڑ ڈالر رہی۔
وزارت کے مطابق 5 جی کے لیے اسپیکٹرم کی نیلامی سے متعلق 6 جنوری 2026 کی حکومتی پالیسی ہدایت میں ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کے لیے 5 جی کی تنصیب کے سلسلے میں بیرونی براہ راست سرمایہ کاری لانے کا کوئی مخصوص ہدف مقرر نہیں کیا گیا تھا۔
موبائل آپریٹرز کی جانب سے فراہم کیے گئے سرمایہ کاری کے تخمینوں کے مطابق مالی سال 2027 میں جاز مزید 3 کروڑ 3 لاکھ 30 ہزار ڈالر فائیو جی کی توسیع پر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ زونگ نے اسی مالی سال کے دوران 3 کروڑ 99 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کا تخمینہ پیش کیا ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان میں 5 جی سروس کا آغاز: ڈیجیٹل ترقی اور سرمایہ کاری کے نئے دور کی شروعات
وزارت نے بتایا کہ یوفون کی مالی سال 2027 کے لیے سرمایہ کاری سے متعلق اعداد و شمار کمپنی کی انضمام سے متعلق سرگرمیاں مکمل ہونے کے بعد فراہم کیے جائیں گے۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں موبائل آپریٹرز نے مجموعی طور پر 1,136 سائٹس کو 5 جی نیٹ ورک کے لیے اپ گریڈ کر دیا ہے جو پاکستان میں نئی نسل کی موبائل رابطہ کاری کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع کی جانب اہم پیشرفت ہے۔
حکام کے مطابق 5 جی کی تنصیب کے لیے حکومت کی جانب سے بیرونی براہ راست سرمایہ کاری کا کوئی مخصوص لازمی ہدف مقرر نہ کیے جانے کے باوجود ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے کی جانے والی نمایاں سرمایہ کاری اس شعبے میں کمپنیوں کی دلچسپی اور نئی نسل کی موبائل خدمات کے دائرہ کار کو بڑھانے کی کوششوں کو ظاہر کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: 5 جی اسپیکٹرم نیلامی مکمل: ٹیکنالوجی کا یہ نیا میدان پاکستان کے لیے کونسے مواقع پیدا کر سکتا ہے؟
حکومت نے مارچ 2026 میں 5 جی اسپیکٹرم کی نیلامی کی تھی جس کے بعد پاکستان میں نئی نسل کی موبائل خدمات کی تجارتی سطح پر فراہمی کی راہ ہموار ہوئی۔














