امریکی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے تارکین وطن ویزوں کے اجرا کی معطلی کی پالیسی کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے وفاقی امیگریشن قانون کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مین ہٹن کی امریکی ڈسٹرکٹ جج جینیٹ ورگاس نے قرار دیا کہ امریکی محکمہ خارجہ کی جنوری میں نافذ کی گئی پالیسی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے قانونی اختیارات سے تجاوز کرتی ہے اور ’واضح طور پر غیر قانونی‘ ہے۔
🚨 A federal judge has struck down the Trump administration's suspension of immigrant visas for nationals of 75 countries, ruling the State Department policy violates federal immigration law and exceeds Secretary Marco Rubio's authority. pic.twitter.com/GPRez33uI6
— SCOTUS Wire (@scotus_wire) August 22, 2026
عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کی قومیت کی بنیاد پر تارکین وطن ویزا جاری کرنے پر مکمل پابندی وفاقی قانون میں وضع کیے گئے طریقہ کار سے براہِ راست متصادم ہے۔ جج کے مطابق قانون نے وزیر خارجہ کو قونصلر افسران کی جانب سے تارکین وطن ویزوں کی کارروائی روکنے کا اختیار نہیں دیا۔
رائٹرز کے مطابق مذکورہ پالیسی سے پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت جنوبی ایشیا کے ممالک، برازیل، کولمبیا اور یوراگوئے سمیت لاطینی امریکی ممالک، بوسنیا اور البانیہ سمیت بلقان کے ممالک جبکہ افریقہ، مشرق وسطیٰ اور کیریبین کے متعدد ممالک متاثر ہوئے تھے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے ویزوں کی معطلی کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان ممالک کے درخواست گزاروں میں امریکا میں سرکاری وسائل پر انحصار کرنے کا خطرہ زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کے نئے ویزا قوانین: کن ممالک کو 20 ہزار ڈالر جمع کرانے ہوں گے، پاکستان کا کیا بنا؟
یہ فیصلہ تارکین وطن کے حقوق کی تنظیموں کی جانب سے دائر مقدمے میں سامنے آیا۔ درخواست گزاروں میں ویزا کے امیدواروں کے علاوہ ایسے امریکی شہری بھی شامل تھے جو اپنے اہل خانہ کو امریکا بلانے کے لیے اسپانسر کر رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے امیگریشن کے خلاف سخت پالیسیوں کو ملکی سلامتی بہتر بنانے کی کوشش قرار دیا ہے، تاہم حقوق کی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات سے آزادی اظہار، قانونی عمل اور اقلیتی برادریوں کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔














