آسمان پر سرخی مائل چاند کا شاندار منظر، 28 اگست کو جزوی چاند گرہن ہوگا، ماہرین فلکیات

ہفتہ 22 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اگست کے اختتام پر 27 اور 28 اگست کی درمیانی شب آسمان پر ایک شاندار فلکیاتی منظر رونما ہوگا، جب 2026 کا جزوی چاند گرہن ہوگا۔

گرہن کے عروج پر چاند کا تقریباً 96 فیصد حصہ زمین کے سائے میں ہوگا اور اس کا بڑا حصہ سرخی مائل نارنجی دکھائی دے گا۔ تاہم پاکستان میں اس فلکیاتی منظر کا مشاہدہ ممکن نہیں ہوگا۔

چاند کا 96 فیصد حصہ زمین کے سائے میں

ماہرین فلکیات کے مطابق جزوی چاند گرہن 28 اگست کو عالمی وقت کے مطابق 4 بج کر 13 منٹ پر اپنے عروج پر پہنچے گا، جس دوران چاند کا تقریباً 96 فیصد حصہ زمین کے گہرے سائے میں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:سپر بلڈ مون: پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں چاند گرہن

اس مرحلے پر چاند کا بڑا حصہ سرخی مائل نارنجی رنگ اختیار کرلے گا، جس کے باعث آسمان پر ایک منفرد اور دلکش منظر دیکھنے کو ملے گا۔

مکمل نہیں، جزوی چاند گرہن ہوگا

ماہرین فلکیات نے واضح کیا ہے کہ یہ مکمل چاند گرہن نہیں ہوگا بلکہ جزوی چاند گرہن ہوگا۔ اس دوران زمین سورج اور چاند کے درمیان اس انداز میں واقع ہوگی کہ زمین کا سایہ چاند کے بڑے حصے پر پڑے گا، تاہم چاند مکمل طور پر سائے میں نہیں جائے گا۔

چاند کے زمین کے سائے میں داخل ہونے کے باعث اس کی معمول کی چمک میں نمایاں کمی آئے گی اور اس کا بڑا حصہ سرخی مائل نارنجی دکھائی دے سکتا ہے۔

پاکستان میں نظارہ ممکن ہوگا؟

ماہرین فلکیات کے مطابق اس بار ایک اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں اس جزوی چاند گرہن کا مشاہدہ نہیں کیا جاسکے گا۔ یعنی 27 اور 28 اگست کی درمیانی شب دنیا کے بعض علاقوں میں لوگ اس منفرد فلکیاتی منظر سے لطف اندوز ہوسکیں گے، تاہم پاکستان میں موجود افراد اس نظارے کو براہ راست آسمان پر نہیں دیکھ سکیں گے۔

چاند گرہن کیسے ہوتا ہے؟

چاند گرہن اس وقت رونما ہوتا ہے جب زمین سورج اور چاند کے درمیان آجاتی ہے اور زمین کا سایہ چاند پر پڑتا ہے۔ اگر چاند مکمل طور پر زمین کے گہرے سائے میں داخل ہوجائے تو اسے مکمل چاند گرہن کہا جاتا ہے، جبکہ چاند کا صرف ایک حصہ سائے میں آنے کی صورت میں یہ جزوی چاند گرہن کہلاتا ہے۔

مزید پڑھیں:رواں ماہ چاند گرہن کا دوسرا واقعہ، کیا آج پاکستان میں بھی اس کا نظارہ ہو گا؟

27 اور 28 اگست کی درمیانی شب ہونے والے اس واقعے میں چاند کا تقریباً پورا حصہ زمین کے گہرے سائے کی زد میں آئے گا، تاہم معمولی حصہ سائے سے باہر رہنے کے باعث اسے مکمل چاند گرہن قرار نہیں دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp