بھارت میں نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس نے ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی، ایمنسٹی انٹرنیشنل

پیر 24 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس نے طاقت کا ضرورت سے زیادہ استعمال کیا، جس میں پیلٹ گنز، آنسو گیس اور بجلی کے جھٹکے دینے والے آلات بھی استعمال کیے گئے۔ یہ مظاہرے گزشتہ ماہ وزیر تعلیم کے استعفے کا باعث بنے تھے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کی رپورٹ پولیس کے اس مؤقف سے متصادم ہے کہ مظاہرین کے پرتشدد ہونے کے بعد ہی طاقت استعمال کی گئی۔ بھارت کی سپریم کورٹ نے بھی گزشتہ جمعرات کو پولیس اور مظاہرین دونوں کی جانب سے ہونے والے تشدد کی تحقیقات کے لیے ایک پینل تشکیل دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے بھارت: نوجوانوں کے احتجاج میں معاملہ ’آزادی‘ کے نعروں تک کیسے پہنچا؟

ایمنسٹی کے مطابق اس نے عینی شاہدین کے بیانات اور تصدیق شدہ ویڈیو و بصری شواہد کی بنیاد پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دارالحکومت نئی دہلی اور مشرقی ریاست بہار میں مظاہرین کے خلاف پیلٹ فائر کرنے والی شاٹ گنز، آنسو گیس لانچرز، گرینیڈز، لاٹھیاں اور بجلی کے جھٹکے دینے والے آلات استعمال کیے گئے۔ تنظیم نے بہار کے ضلع سیوان میں پولیس اہلکار کی جانب سے ہجوم پر غیر قانونی طور پر مہلک طاقت استعمال کرنے کے 2 واقعات کی بھی نشاندہی کی، تاہم ان میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

مظاہرے قومی میڈیکل داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے خلاف شروع ہوئے تھے اور 20 جولائی کو اس وقت پرتشدد صورت اختیار کر گئے جب ہزاروں مظاہرین نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کی۔ ایمنسٹی نے کہا کہ مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کے بعض الگ تھلگ واقعات ضرور پیش آئے، تاہم پولیس کا ’سخت گیر ردعمل‘ ریاستی سرپرستی میں ہونے والے تشدد کے مترادف تھا۔ دوسری جانب دہلی پولیس نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ طاقت صرف اس وقت استعمال کی گئی جب مظاہرین نے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔

یہ بھی پڑھیے ’بھارت میں ‘کاکروچ’ احتجاج کے دوران مظاہرین پر پیلٹ گن استعمال ہونے کے شواہد مل گئے‘، برطانوی میڈیا رپورٹ

احتجاج کا دائرہ بعد ازاں امتحانی بے ضابطگیوں سے بڑھ کر بے روزگاری، نوجوانوں کے لیے مواقع کی کمی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے بڑھتے ہوئے آمرانہ طرز حکمرانی کے خلاف وسیع تحریک میں تبدیل ہوگیا۔ اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے گزشتہ جمعے کو 19 سالہ ایک زخمی مظاہرہ کرنے والے نوجوان کے ہمراہ دہلی کے ایک پولیس تھانے کے باہر دھرنا دیا اور مبینہ پیلٹ فائرنگ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا، جس کے بعد پولیس نے شکایت پر مقدمہ درج کرلیا۔ یہ احتجاج 2024 میں تیسری مرتبہ اقتدار سنبھالنے کے بعد مودی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خیبرپختونخوا محکمہ معدنیات کے 8 اہلکار 120 روز کے لیے معطل

کیا آپ کا اگلا فون سیٹلائٹ فون ہوگا؟ موبائل ٹیکنالوجی میں بڑی تبدیلی

سابق چائلڈ اسٹار کا ڈزنی ملازم پر جنسی زیادتی کا الزام، کمپنی کے خلاف مقدمہ درج

بنوں، لکی مروت اور ٹانک میں پولیس آزاد ہوچکی، احکامات ماننے سے انکار کردیا، مولانا فضل الرحمان کے انکشافات

کیا شہباز حکومت توہینِ عدالت کے ’جرم‘ میں گھر جا سکتی ہے؟

ویڈیو

بلوچستان کا طالب علم اے آئی کی مدد سے انسانوں کو نئی زندگی فراہم کرے گا؟

ہارٹ ٹرانسپلانٹ کا متبادل تیار، چینی سائنسدانوں کا کرشماتی علاج، 90 فیصد ہارٹ فیلیئر مریض صحتیاب

ٹیک ٹائکون زکربرگ نے تاریخی آئرش قلعہ خرید لیا، حقیقت اور قیمت جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

کالم / تجزیہ

کیا شہباز حکومت توہینِ عدالت کے ’جرم‘ میں گھر جا سکتی ہے؟

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار