ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس نے طاقت کا ضرورت سے زیادہ استعمال کیا، جس میں پیلٹ گنز، آنسو گیس اور بجلی کے جھٹکے دینے والے آلات بھی استعمال کیے گئے۔ یہ مظاہرے گزشتہ ماہ وزیر تعلیم کے استعفے کا باعث بنے تھے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کی رپورٹ پولیس کے اس مؤقف سے متصادم ہے کہ مظاہرین کے پرتشدد ہونے کے بعد ہی طاقت استعمال کی گئی۔ بھارت کی سپریم کورٹ نے بھی گزشتہ جمعرات کو پولیس اور مظاہرین دونوں کی جانب سے ہونے والے تشدد کی تحقیقات کے لیے ایک پینل تشکیل دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے بھارت: نوجوانوں کے احتجاج میں معاملہ ’آزادی‘ کے نعروں تک کیسے پہنچا؟
ایمنسٹی کے مطابق اس نے عینی شاہدین کے بیانات اور تصدیق شدہ ویڈیو و بصری شواہد کی بنیاد پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دارالحکومت نئی دہلی اور مشرقی ریاست بہار میں مظاہرین کے خلاف پیلٹ فائر کرنے والی شاٹ گنز، آنسو گیس لانچرز، گرینیڈز، لاٹھیاں اور بجلی کے جھٹکے دینے والے آلات استعمال کیے گئے۔ تنظیم نے بہار کے ضلع سیوان میں پولیس اہلکار کی جانب سے ہجوم پر غیر قانونی طور پر مہلک طاقت استعمال کرنے کے 2 واقعات کی بھی نشاندہی کی، تاہم ان میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔
One month after Indian police deployed unlawful and deadly force against peaceful protesters at the Cockroach Janata Party (CJP)-led “Chalo Sansad” march, not a single officer in Delhi has been held accountable. https://t.co/I0YSPsD1IW
— Amnesty India (@AIIndia) August 24, 2026
مظاہرے قومی میڈیکل داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے خلاف شروع ہوئے تھے اور 20 جولائی کو اس وقت پرتشدد صورت اختیار کر گئے جب ہزاروں مظاہرین نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کی۔ ایمنسٹی نے کہا کہ مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کے بعض الگ تھلگ واقعات ضرور پیش آئے، تاہم پولیس کا ’سخت گیر ردعمل‘ ریاستی سرپرستی میں ہونے والے تشدد کے مترادف تھا۔ دوسری جانب دہلی پولیس نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ طاقت صرف اس وقت استعمال کی گئی جب مظاہرین نے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔
یہ بھی پڑھیے ’بھارت میں ‘کاکروچ’ احتجاج کے دوران مظاہرین پر پیلٹ گن استعمال ہونے کے شواہد مل گئے‘، برطانوی میڈیا رپورٹ
احتجاج کا دائرہ بعد ازاں امتحانی بے ضابطگیوں سے بڑھ کر بے روزگاری، نوجوانوں کے لیے مواقع کی کمی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے بڑھتے ہوئے آمرانہ طرز حکمرانی کے خلاف وسیع تحریک میں تبدیل ہوگیا۔ اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے گزشتہ جمعے کو 19 سالہ ایک زخمی مظاہرہ کرنے والے نوجوان کے ہمراہ دہلی کے ایک پولیس تھانے کے باہر دھرنا دیا اور مبینہ پیلٹ فائرنگ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا، جس کے بعد پولیس نے شکایت پر مقدمہ درج کرلیا۔ یہ احتجاج 2024 میں تیسری مرتبہ اقتدار سنبھالنے کے بعد مودی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا گیا۔













