جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ بنوں، لکی مروت اور ٹانک میں پولیس آزاد ہوچکی ہے، اہلکار احکامات نہیں مان رہے اور کانسٹیبل کی سطح پر نظام اپنے ہاتھ میں لے لیا گیا ہے۔ بعض اہلکار وردی بھی نہیں پہن رہے جبکہ ڈی پی او، ڈی آئی جی اور آئی جی کے احکامات بھی مؤثر نہیں رہے۔
مزید پڑھیں:بنوں میں قاری راشد کے قتل کا الزام پولیس امن کمیٹی پر، لواحقین کا تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ
میڈیا رپورٹس کے مطابق بنوں اور لکی مروت میں بعض پولیس امن کمیٹیاں قانونی اختیار کے بغیر سرگرم ہیں، جن میں مبینہ طور پر سابق پولیس اہلکار اور جرائم پیشہ عناصر شامل ہیں۔ رپورٹس میں ان کمیٹیوں پر مختلف چیک پوسٹوں پر غیر قانونی وصولیوں، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی آمدورفت میں سہولتکاری اور جدید اسلحے کی نمائش سمیت سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ بنوں، لکی مروت اور ٹانک میں پولیس آزاد ہوچکی، اہلکار احکامات نہیں مان رہے،کانسٹیبل نے نظام ہاتھ میں لے لیا گیا۔ اہلکار وردی بھی نہیں پہن رہے جبکہ ڈی پی او، ڈی آئی جی اور آئی جی کے احکامات بھی مؤثر نہیں رہے۔@juipakofficial @KulAalam @PTIofficial pic.twitter.com/UCRBHXhjGV
— Media Talk (@mediatalk922) August 24, 2026
رپورٹس کے مطابق بعض عناصر امن کے قیام کے بجائے علاقے میں خوف و ہراس اور سماجی بے چینی کا باعث بن رہے ہیں، جبکہ حاضر سروس پولیس اہلکاروں کے ساتھ مبینہ تنازعات کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
امن کمیٹیوں کے بعض ارکان پر سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں، جن میں دہشتگرد عناصر سے مبینہ روابط، اسلحے کی چوری اور دیگر جرائم شامل ہیں۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
مولانا فضل الرحمان نے پولیس کے انتظامی ڈھانچے اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔














