افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مزاحمتی سرگرمیوں میں اضافے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جہاں قندھار، کابل، ننگرہار، بغلان اور بدخشاں میں طالبان کمانڈروں، انٹیلیجنس اہلکاروں، گشتی دستوں اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) اور افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ (اے یو ایف) نے مختلف علاقوں میں طالبان اہلکاروں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ 21 اگست کو قندھار میں مزاحمتی گروپ اے یو ایف کے حملے میں طالبان کے 2 اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ 22 اگست کو کابل میں طالبان کے ایک انٹیلیجنس افسر کو نشانہ بنایا گیا۔
اے یو ایف کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ افسر سابق فوجی، پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں اور خواتین کے حقوق کے لیے احتجاج کرنے والوں کی گرفتاری، تشدد اور ہلاکتوں میں ملوث تھا۔
The Afghanistan Freedom Front commandos have delivered a forceful and decisive response to an attack launched by the Taliban terrorist group this morning, Sunday, August 23, 2026, in Zebak district of Badakhshan Province.
Taliban terrorists, commanded by the deputy of the… pic.twitter.com/JnS4N0LuxQ
— Afghanistan Freedom Front (@FREEDOMFRONTAFG) August 23, 2026
21 اگست کو ننگرہار میں اے ایف ایف نے طالبان کے مقامی کمانڈر ملا داؤد افضل پر حملہ کیا، جس میں کمانڈر ہلاک اور اس کے 2 محافظ شدید زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ 20 اگست کو بغلان میں طالبان کے گشتی دستے پر حملے میں 2 اہلکاروں کی ہلاکت اور ایک کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی۔
بدخشاں میں بھی کشیدگی میں اضافے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 23 اگست کو طالبان فورسز نے اے ایف ایف کے ٹھکانوں پر کئی سمتوں سے حملہ کیا، تاہم اے ایف ایف کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائی کے بعد طالبان فورسز کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور انہیں پسپا ہونا پڑا۔
مزید پڑھیں:احتساب سے بالاتر طالبان حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے: حسن خان سینیئر تجزیہ کار
مختلف اور ایک دوسرے سے دور صوبوں میں مزاحمتی کارروائیوں کا پھیلاؤ طالبان کے سیکیورٹی ڈھانچے پر بڑھتے دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سیاسی عدم شمولیت، گرفتاریوں اور بنیادی آزادیوں پر پابندیوں کے باعث عوامی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔














