افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں میں شدت آگئی

پیر 24 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مزاحمتی سرگرمیوں میں اضافے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جہاں قندھار، کابل، ننگرہار، بغلان اور بدخشاں میں طالبان کمانڈروں، انٹیلیجنس اہلکاروں، گشتی دستوں اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

مزید پڑھیں:طالبان حکومت کے 5 سال، بین الاقوامی قبولیت ملی نہ عوامی، مزاحمت کے بیچ رجائیت پسند رجیم کی کشتی ڈانواں ڈول

افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) اور افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ (اے یو ایف) نے مختلف علاقوں میں طالبان اہلکاروں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ 21 اگست کو قندھار میں مزاحمتی گروپ اے یو ایف کے حملے میں طالبان کے 2 اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ 22 اگست کو کابل میں طالبان کے ایک انٹیلیجنس افسر کو نشانہ بنایا گیا۔

اے یو ایف کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ افسر سابق فوجی، پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں اور خواتین کے حقوق کے لیے احتجاج کرنے والوں کی گرفتاری، تشدد اور ہلاکتوں میں ملوث تھا۔

21 اگست کو ننگرہار میں اے ایف ایف نے طالبان کے مقامی کمانڈر ملا داؤد افضل پر حملہ کیا، جس میں کمانڈر ہلاک اور اس کے 2 محافظ شدید زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ 20 اگست کو بغلان میں طالبان کے گشتی دستے پر حملے میں 2 اہلکاروں کی ہلاکت اور ایک کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی۔

بدخشاں میں بھی کشیدگی میں اضافے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 23 اگست کو طالبان فورسز نے اے ایف ایف کے ٹھکانوں پر کئی سمتوں سے حملہ کیا، تاہم اے ایف ایف کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائی کے بعد طالبان فورسز کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور انہیں پسپا ہونا پڑا۔

مزید پڑھیں:احتساب سے بالاتر طالبان حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے: حسن خان سینیئر تجزیہ کار

مختلف اور ایک دوسرے سے دور صوبوں میں مزاحمتی کارروائیوں کا پھیلاؤ طالبان کے سیکیورٹی ڈھانچے پر بڑھتے دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سیاسی عدم شمولیت، گرفتاریوں اور بنیادی آزادیوں پر پابندیوں کے باعث عوامی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp