واشنگٹن کی جانب سے ایران پر مزید سخت پابندیوں کے متوقع اعلان سے قبل سرمایہ کاروں نے منافع سمیٹا، جس کے باعث پیر کو خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 1.23 ڈالر، یعنی 1.3 فیصد کمی کے بعد پاکستانی وقت کے مطابق صبح 8 بج کر 29 منٹ پر 93.16 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 1.36 ڈالر، یعنی 1.6 فیصد کمی کے ساتھ 85.70 ڈالر فی بیرل رہی۔
دونوں اہم معاہدوں میں گزشتہ ہفتے مسلسل دوسری ہفتہ وار تیزی ریکارڈ کی گئی تھی اور قیمتیں 5 فیصد سے زائد بڑھی تھیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل سپلائی گزرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے امریکا کا ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان آج متوقع
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ آج بروز پیر پریس کانفرنس میں ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرنے والے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایران کے تجارتی شراکت داروں پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کے کموڈیٹیز تجزیہ کار وویک دھار کے مطابق یہ واضح نہیں کہ ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی امریکی پالیسی کس حد تک مؤثر ثابت ہوگی، تاہم پابندیوں کے نتیجے میں ایران کی جانب سے مزید جارحانہ ردعمل توانائی کی عالمی منڈی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
ایران نے امریکی پابندیوں کے منصوبے کی مذمت کی ہے، صدر مسعود پزشکیان نے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔ تجارتی ذرائع کے مطابق چینی خریداروں کو ایرانی خام تیل کی پیشکشیں کم ہوگئی ہیں اور قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب ایران نے بغداد کی بار بار درخواستوں کے بعد عراقی تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کی ایران کیخلاف معاشی جنگ تیز کرنے کی تیاری، تہران نے جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی
مورگن اسٹینلے کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے تیل کی رسد میں بحالی توقع سے زیادہ وقت لے سکتی ہے، کیونکہ سمندر میں موجود تیل کے ذخائر اور چین سمیت خشکی پر موجود ذخائر میں بھی کمی آ رہی ہے۔














