وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کابل حکومت بھارت کی پراکسی بن چکی ہے اور وہ سرحد پار دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان کو کوئی ٹھوس یقین دہانی کرانے پر آمادہ نہیں۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ کابل ہمیں دہشتگردی روکنے کی کوئی ضمانت نہیں دے رہا، افغان حکام صرف زبانی یقین دہانیاں کراتے ہیں اور تحریری ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان افغانستان کی ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہے: اسحاق ڈار کا افغان وزیر خارجہ کو ٹیلیفون
انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہاکہ اگر انہوں نے دہشتگردوں کی پشت پناہی بند نہ کی تو جنگ ہوگی۔ ’ان کے مطابق پاکستان نے قطر، سعودی عرب اور ترکیہ کی شمولیت سے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی۔‘
وزیر دفاع نے کہاکہ خیبر پختونخوا حکومت نے ایک طویل عرصے تک سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کیا، تاہم اب تعاون میں بہتری آئی ہے۔
تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی کی اور کارروائی میں مداخلت کی۔ خواجہ آصف نے پاکستان کی مسلح افواج کی قربانیوں کو سراہا۔
وزیر دفاع نے کہاکہ ہماری مسلح افواج غیر مشروط قربانیاں دے رہی ہیں، سرحد پر جان قربان کرنے والا ہر شہری پاکستان کی شناخت کی نمائندگی کرتا ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں شدید تناؤ آیا ہے کیونکہ پاکستان مسلسل طالبان پر زور دیتا رہا ہے کہ افغان سرزمین کو اسلام آباد کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے، تاہم یہ وعدہ اب تک پورا نہیں کیا گیا۔
اگرچہ دوست ممالک نے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کیں، تاہم پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے عوام کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ طالبان حکومت عسکریت پسندی کی حمایت نہ کرے۔
مزید پڑھیں: افغانستان میں کسی یونیورسٹی کو نشانہ نہیں بنایا، پاکستان نے من گھڑت پراپیگنڈے کو مسترد کردیا
گزشتہ سال ترکیہ اور قطر کی جانب سے جنگ بندی کرانے کی کوششوں سے وقتی طور پر کشیدگی میں کمی آئی تھی، تاہم اسلام آباد اور کابل کے درمیان کوئی دیرپا معاہدہ نہیں ہو سکا۔














