وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نئی تعمیر ہونے والی سڑکوں کی کھدائی اور کسی بھی قسم کے نقصان پر پابندی عائد کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کو ترقیاتی کاموں میں باہمی رابطہ یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے یہ ہدایات پنجاب بھر میں اپنے ذرائع آمدن سے مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کے جائزے کے لیے منعقدہ خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔ اجلاس میں لاہور، ملتان، بہاولپور، ساہیوال، راولپنڈی اور فیصل آباد سمیت مختلف اضلاع میں جاری اور مجوزہ منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ’ون پنجاب، ون اسٹینڈرڈ‘ پالیسی: سڑکیں و سرکاری عمارتیں یکساں بنانے کا فیصلہ
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ سڑکوں کی تعمیر کے بعد دوبارہ کھدائی نہ کی جائے اور مختلف محکمے اپنے کاموں میں مکمل رابطہ رکھیں تاکہ نئی تعمیر شدہ سڑکوں کو بار بار توڑنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ انہوں نے مین ہولز اور سیوریج کے ڈھکن سڑک کی سطح کے برابر رکھنے جبکہ ہر نئی سڑک کے ساتھ معیاری نکاسی آب، سائن بورڈز اور لینوں کی نشاندہی یقینی بنانے کا حکم بھی دیا۔
مریم نواز نے دکانداروں سے پیشگی منظوری کے بغیر کسی بھی قسم کے چارجز وصول کرنے سے بھی روک دیا اور تمام ترقیاتی منصوبوں کے لیے الگ الگ تکمیل کی مدت مقرر کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں لاہور سمیت مختلف شہروں میں سڑکوں کی تعمیر، کشادگی، کارپٹنگ، فٹ پاتھ، سڑکوں پر روشنی کی عکاسی کرنے والے نشانات، کرب اسٹونز، لینوں کی نشاندہی، نکاسی آب، سیوریج، تزئین و آرائش، کھیلوں کی سہولیات اور نکاسی آب کے مراکز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے منصوبوں کی منظوری دی گئی۔
لاہور میں 10 سڑکوں کی تزئین و آرائش کے منصوبوں کی منظوری دی گئی، جن میں ایجرٹن روڈ، لٹن روڈ، ڈیوس روڈ، لوئر مال، لارنس روڈ، کوئنز روڈ اور بینک روڈ شامل ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ لکشمی چوک کو بھی خوبصورت بنایا جائے گا جبکہ میٹرو کے راستے اور ستونوں پر فن پارے بھی بنائے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں پبلک پرائیویٹ شراکت سے 29 نئی سڑکیں، تعمیرات کا نیا ماڈل متعارف
وزیراعلیٰ نے ملتان روڈ پر اورنج لائن کے راستے کی صفائی، شجرکاری اور دیواری نقش و نگار کے ذریعے تزئین و آرائش کی ہدایت کی۔ لاہور کے مضافاتی علاقوں میں دیہی سڑکوں کی تعمیر اور کشادگی کے منصوبے کی بھی منظوری دی گئی۔
قصور میں سڑکوں کی تعمیر و کشادگی، شمسی توانائی سے چلنے والی گلیوں کی روشنیاں اور تزئین و آرائش کے منصوبوں کی منظوری دی گئی، جبکہ شیخوپورہ میں سیوریج، نکاسی آب کے مراکز اور سڑکوں کی تعمیر و کشادگی سے متعلق پانچ منصوبوں کی منظوری دی گئی۔
ملتان ڈویژن کے لیے 42 منصوبوں کی منظوری دی گئی، جن میں ملتان میں دو رویہ سڑکوں، لینوں کی نشاندہی اور نکاسی آب کے منصوبے جبکہ مضافاتی علاقوں میں سیوریج اور نکاسی آب کے منصوبے شامل ہیں۔ خانیوال، کبیر والا، میاں چنوں، جہانیاں اور تلمبہ میں بھی مختلف ترقیاتی منصوبے منظور کیے گئے۔
وہاڑی کے لیے سڑکوں کے کام اور نکاسی آب کے ایک مرکز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے سمیت چھ منصوبوں، جبکہ لودھراں کے لیے بچوں کے پارک، گلیوں کی روشنی، سڑکوں کی تعمیر و کشادگی اور تزئین و آرائش سمیت چھ منصوبوں کی منظوری دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کی ہدایت پر ’سڑکیں بحال، پنجاب خوشحال‘ پراجیکٹ کا آغاز
اجلاس میں بہاولپور کے 12، رحیم یار خان کے تین اور بہاولنگر کے آٹھ منصوبے منظور کیے گئے۔ ساہیوال کے 13، اوکاڑہ کے چار اور پاکپتن کے 14 منصوبوں کی بھی منظوری دی گئی، جن میں سڑکوں کی تزئین و آرائش، تعمیر و کشادگی، شمسی گلیوں کی روشنیاں اور کھیلوں کی سہولیات شامل ہیں۔
فیصل آباد میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے 13 منصوبوں کی منظوری دی گئی جبکہ چنیوٹ کے چھ اور جھنگ کے 18 منصوبے بھی منظور کیے گئے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں خریداری مرکز اور کھانے پینے کی گلی جبکہ کمالیہ میں کھیلوں کا میدان اور بیڈمنٹن میدان تعمیر کیا جائے گا۔
راولپنڈی ضلع میں 13، اٹک میں چھ، مری میں چار جبکہ جہلم اور چکوال میں سات، سات منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے حسن ابدال، حضرو، کلر کہار اور دیگر تحصیلوں کے ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔
مریم نواز شریف نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ سڑکوں کے منصوبوں میں معیاری نکاسی آب کا خصوصی خیال رکھا جائے اور نئی تعمیر شدہ سڑکوں کو مکمل طور پر گردوغبار سے پاک رکھا جائے۔














