امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور کینیڈا کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی کے دوران جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’جھیل امریکا‘ رکھنے پر غور کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کینیڈا تجارتی مذاکرات ناکام، ٹرمپ کی ٹیرف بڑھانے کی دھمکی
ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان میں کہا کہ امریکا سنجیدگی سے جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے پر غور کررہا ہے کیونکہ ان کے بقول امریکا اب اونٹاریو کے ساتھ پہلے جیسا کاروبار کرنے کی توقع نہیں رکھتا۔
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف محصولات اور تجارتی پابندیوں کے معاملے پر آمنے سامنے ہیں۔
President Trump considers renaming Lake Ontario to Lake America, since he doesn’t expect doing much business with Ontario any longer.
Watch Democrat’s heads explode over the renaming. pic.twitter.com/DZn74ThS3u
— The SCIF (@TheSCIF) August 25, 2026
رپورٹ کے مطابق دو طرفہ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ہفتے کے اختتام پر کینیڈا سے درآمد کی جانے والی 20 ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر 50 فیصد محصولات عائد کیے، جس کے جواب میں کینیڈا کی جانب سے بھی جوابی اقدامات کا امکان ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے کی تجویز ان کے گزشتہ سال خلیج میکسیکو کا نام تبدیل کرکے ’خلیج امریکا‘ رکھنے کے فیصلے کی یاد دلاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا کینیڈا امریکا کی 51ویں ریاست بن سکتا ہے؟
امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارت کا وسیع اور باہم مربوط نظام موجود ہے، جس میں گاڑیوں، توانائی، زراعت اور صنعتی پیداوار کے شعبے شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق طویل تجارتی تنازع دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور کارکنوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کر سکتا ہے۔
جھیل اونٹاریو امریکا اور کینیڈا کے درمیان واقع پانچ عظیم جھیلوں میں سے ایک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جغرافیائی و اقتصادی اہمیت رکھتی ہے۔














