بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور نے انکشاف کیا ہے کہ فرانس میں جی 7 سربراہی اجلاس کے موقعے پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران بھارتی حکومت نے امریکا سے باضابطہ درخواست کی تھی کہ میڈیا کو سوال و جواب کی اجازت نہ دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: جی 7 تصویر کے تنازع پر ٹرمپ اور میلونی میں کشیدگی مزید بڑھ گئی
امریکی سفیر کا یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارتی حکومت اس بات سے واقف ہے کہ نریندر مودی بین الاقوامی میڈیا کے چیلنجنگ سوالات کا سامنا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے جبکہ بھارت کے اندر بھی پریس کی آزادی پر کنٹرول سے متعلق خدشات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
وزارت خارجہ کی درخواست
ہفتے کے روز اکانومک ٹائمز ورلڈ لیڈرز فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سفیر نے بتایا کہ بھارتی وزارت خارجہ نے امریکی انتظامیہ سے خصوصی درخواست کی تھی کہ پریس کو صرف تصویروں اور کوریج کی حد تک محدود رکھا جائے اور سوال و جواب کا سیشن نہ منعقد کیا جائے۔
ٹرمپ تو پھر ٹرمپ ہیں
سفیر کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں اس درخواست کو قبول کر لیا تھا لیکن بعد میں وہ شاید اسے بھول گئے اور انہوں نے غیر متوقع طور پرصحافیوں کو سوالات پوچھنے کی دعوت دے دی۔
جس کوریج کو ایک مختصر اور محدود میڈیا سیشن ہونا تھا وہ ٹرمپ کے اس قدم کی وجہ سے مودی کی موجودگی میں 45 منٹ طویل پریس کانفرنس اور سوال و جواب کے سیشن میں تبدیل ہو گئی۔
عالمی ذرائع ابلاغ اور پریس کی آزادی پر سوالات
یہ واقعہ دونوں رہنماؤں کے میڈیا کے ساتھ رویے اور نقطہ نظر کے واضح فرق کو نمایاں کرتا ہے۔ جہاں ڈونلڈ ٹرمپ صحافیوں کا آمنے سامنے سامنا کرنے اور ان کے سوالات کے جوابات دینے کے لیے جانے جاتے ہیں وہاں نریندر مودی بین الاقوامی میڈیا اور آزادانہ سوال و جواب کے سیشنز سے ہمیشہ کتراتے رہے ہیں۔
مزید پڑھیے: 52ویں جی 7 کانفرنس فرانس میں جاری، عالمی بحرانوں اور معاشی چیلنجز پر غور
امریکی سفیر کے ان انکشافات کے بعد بھارت میں صحافت کی آزادی، میڈیا پر پابندیوں اور حکومت کی جوابدہی کے حوالے سے عالمی سطح پر جاری تشویش میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔














