52ویں جی 7 کانفرنس  فرانس میں جاری، عالمی بحرانوں اور معاشی چیلنجز پر غور

پیر 15 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فرانس کے تفریحی مقام ایویان لے باں میں شروع ہونے والی 52ویں جی 7 کانفرنس میں عالمی بحرانوں اور معاشی چیلنجز پر غور کیا جارہا ہے۔

 اس 3 روزہ سربراہی اجلاس کی صدارت فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کررہے ہیں، جنہوں نے کینیڈا سے اس گروپ کی صدارت سنبھالی ہے۔ اجلاس میں جی 7 ممالک کے علاوہ کئی غیر رکن ممالک کے سربراہان کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جی 20 سربراہان اجلاس: امریکی بائیکاٹ کے باوجود متفقہ اعلامیے کا مسودہ تیار

اس اہم ترین بیٹھک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شریک ہیں، جو ایران کے ساتھ جنگ بندی کے ایک معاہدے کے اعلان کے بعد یہاں پہنچے ہیں۔ ان کے علاوہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی، یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلینسکی، مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے کانفرنس میں شرکت کی تصدیق کی ہے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی آمد کے حوالے سے ابھی صورتحال واضح نہیں ہے، جبکہ جنوبی افریقہ کو پہلے دعوت دینے کے بعد اس بار مدعو نہیں کیا گیا۔

اجلاس کے ایجنڈے پر نظر ڈالی جائے تو ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد پیدا ہونے والے تناظر میں آبنائے ہرمز کی بحالی اور تیل کی قیمتوں کا استحکام سرفہرست ہے۔

 اس کے ساتھ ساتھ یوکرین کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی، چین کی صنعتی پیداوار کے مقابلے میں معاشی توازن اور سپلائی چین کا تحفظ بھی زیر بحث لایا جارہا ہے۔ ڈیجیٹل گورننس اور مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ پر مشاورت کے لیے اوپن اے آئی، گوگل اور اینتھروپک کے سربراہان کو بھی اجلاس کا حصہ بنایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جینیوا میں جی 7 کے خلاف احتجاج، فلسطینی پرچموں اور ماحولیاتی نعروں کی گونج

واضح رہے کہ جی 7 دنیا کی سات ترقی یافتہ معیشتوں کا ایک غیر رسمی گروپ ہے جس میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی اور جاپان شامل ہیں۔ یورپی یونین بھی اس کے اجلاسوں میں مستقل طور پر شریک ہوتی ہے، تاہم اسے باقاعدہ رکن شمار نہیں کیا جاتا۔

اقوام متحدہ یا نیٹو کے برعکس اس تنظیم کا کوئی مستقل ہیڈ کوارٹر، معاہدہ یا قانونی حیثیت نہیں ہے اور اس کی صدارت ہر سال ارکان کے درمیان تبدیل ہوتی رہتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp