فرانس کے تفریحی مقام ایویان لے باں میں شروع ہونے والی 52ویں جی 7 کانفرنس میں عالمی بحرانوں اور معاشی چیلنجز پر غور کیا جارہا ہے۔
اس 3 روزہ سربراہی اجلاس کی صدارت فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کررہے ہیں، جنہوں نے کینیڈا سے اس گروپ کی صدارت سنبھالی ہے۔ اجلاس میں جی 7 ممالک کے علاوہ کئی غیر رکن ممالک کے سربراہان کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جی 20 سربراہان اجلاس: امریکی بائیکاٹ کے باوجود متفقہ اعلامیے کا مسودہ تیار
اس اہم ترین بیٹھک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شریک ہیں، جو ایران کے ساتھ جنگ بندی کے ایک معاہدے کے اعلان کے بعد یہاں پہنچے ہیں۔ ان کے علاوہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی، یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلینسکی، مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے کانفرنس میں شرکت کی تصدیق کی ہے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی آمد کے حوالے سے ابھی صورتحال واضح نہیں ہے، جبکہ جنوبی افریقہ کو پہلے دعوت دینے کے بعد اس بار مدعو نہیں کیا گیا۔
🚨🇫🇷 NEW: The G7 Leaders’ Summit begins today in Évian-les-bains
G7 Leaders in Attendance:
🇨🇦 Mark Carney
🇫🇷 Emmanuel Macron
🇩🇪 Friedrich Merz
🇮🇹 Giorgia Meloni
🇯🇵 Sanae Takaichi
🇬🇧 Keir Starmer
🇺🇸 Donald Trump
🇪🇺 Ursula von der Leyen / Antonio CostaInvitees:
🇧🇷… pic.twitter.com/oJ74a015QQ— Politics Global (@PolitlcsGlobal) June 15, 2026
اجلاس کے ایجنڈے پر نظر ڈالی جائے تو ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد پیدا ہونے والے تناظر میں آبنائے ہرمز کی بحالی اور تیل کی قیمتوں کا استحکام سرفہرست ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یوکرین کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی، چین کی صنعتی پیداوار کے مقابلے میں معاشی توازن اور سپلائی چین کا تحفظ بھی زیر بحث لایا جارہا ہے۔ ڈیجیٹل گورننس اور مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ پر مشاورت کے لیے اوپن اے آئی، گوگل اور اینتھروپک کے سربراہان کو بھی اجلاس کا حصہ بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جینیوا میں جی 7 کے خلاف احتجاج، فلسطینی پرچموں اور ماحولیاتی نعروں کی گونج
واضح رہے کہ جی 7 دنیا کی سات ترقی یافتہ معیشتوں کا ایک غیر رسمی گروپ ہے جس میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی اور جاپان شامل ہیں۔ یورپی یونین بھی اس کے اجلاسوں میں مستقل طور پر شریک ہوتی ہے، تاہم اسے باقاعدہ رکن شمار نہیں کیا جاتا۔
اقوام متحدہ یا نیٹو کے برعکس اس تنظیم کا کوئی مستقل ہیڈ کوارٹر، معاہدہ یا قانونی حیثیت نہیں ہے اور اس کی صدارت ہر سال ارکان کے درمیان تبدیل ہوتی رہتی ہے۔














