عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ 20 سے 25 جولائی کے دوران افغانستان میں آنے والے اچانک سیلاب نے ملک کے مختلف حصوں میں بڑے پیمانے پر انسانی بحران پیدا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں گھروں، عوامی تنصیبات اور لاکھوں افراد کے ذرائع معاش کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق سیلاب سے مشرقی صوبے نورستان، ننگرہار اور لغمان، جنوب مشرقی صوبے پکتیکا، پکتیا، خوست اور غزنی جبکہ وسطی افغانستان کے کابل، کاپیسا، پنج شیر، پروان، لوگر اور میدان وردک بری طرح متاثر ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ تباہی مشرقی علاقے، خصوصاً صوبہ نورستان کے دارالحکومت پارون میں ہوئی۔
ڈبلیو ایچ او کے اعداد و شمار کے مطابق صرف پارون میں سیلاب کے باعث کم از کم 23 افراد جاں بحق، 5 لاپتا اور 125 زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
ادارے کے ابتدائی جائزے میں کہا گیا ہے کہ سیلاب سے رہائشی مکانات، عوامی عمارتوں اور مقامی آبادی کے ذرائع آمدن کو شدید نقصان پہنچا، جس کے باعث متاثرہ علاقوں میں فوری انسانی امداد کی ضرورت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کابل اور اس سے ملحقہ صوبوں میں بھی سیکڑوں خاندان متاثر ہوئے، جہاں رہائشی مکانات اور کمیونٹی کی املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔
ڈبلیو ایچ او نے بتایا کہ لوگر کے ضلع محمد آغا، پروان کے ضلع غوربند اور کابل کے مختلف علاقوں میں سیلاب نے وسیع پیمانے پر تباہی مچائی۔
ادارے کے مطابق سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کے باعث ضروری خدمات، خصوصاً صحت کی سہولیات تک رسائی شدید متاثر ہوئی ہے۔
اقوام متحدہ کے جائزے کے مطابق جنوب مشرقی افغانستان میں بھی سیلاب سے جانی نقصان ہوا، گھروں اور زرعی اراضی کو شدید نقصان پہنچا۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق پکتیکا میں کم از کم 26 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے اور 2 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ پکتیا میں دو بچے جان کی بازی ہار گئے۔
اسی طرح خوست اور غزنی میں زرعی زمینوں، سڑکوں اور پینے کے پانی کی فراہمی کے نظام کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا کہ سیلاب کے اثرات صرف فوری تباہی تک محدود نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں غذائی تحفظ اور متاثرہ خاندانوں کے ذرائع معاش طویل عرصے تک متاثر رہ سکتے ہیں، خاص طور پر وہ دیہی علاقے جہاں آبادی کا انحصار زراعت پر ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پینے کے صاف پانی کے نظام کو نقصان پہنچنے سے آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔
ادارے کے مطابق بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی رابطہ اور امدادی نظام فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ دیگر امدادی اداروں کے ساتھ مل کر متاثرہ علاقوں میں فوری ضروریات کا جائزہ لینے اور ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا
ڈبلیو ایچ او نے خاص طور پر پارون میں صحت کی سہولیات اور طبی وسائل کی شدید کمی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ محدود طبی استعداد، ادویات کی قلت، علاج معالجے کے مراکز کو پہنچنے والے نقصان اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں تک رسائی میں مشکلات نے امدادی کارروائیوں کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں صحت کی سہولیات کو فوری طور پر مضبوط بنایا جائے، پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے، بے گھر خاندانوں کے لیے عارضی رہائش کا انتظام کیا جائے اور بیماریوں کی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ دنوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہا تو افغانستان میں انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔













