آزاد کشمیر میں غیرمنتخب شخص کو وزیراعظم نامزد کیے جانے سے متعلق وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا مؤقف سامنے آگیا۔
اعظم نذیر تارڑ سے سوال کیا گیا کہ عوام نے جس شخص کو ووٹ دے کر منتخب نہیں کیا، کیا مسلم لیگ ن اسے آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنا رہی ہے؟
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف نے افتخار گیلانی کو وزیراعظم آزاد کشمیر کے لیے باقاعدہ نامزد کردیا
وفاقی وزیر قانون نے جواب دیا کہ اس سوال کا بہتر جواب ان کی سیاسی ٹیم دے سکتی ہے، کیونکہ یہ سیاسی فیصلے ہوتے ہیں اور ان کے لیے کوئی لکھے پڑھے مخصوص قواعد نہیں ہوتے۔
بریکنگ نیوز: آزاد کشمیر میں غیرمنتخب شخص کو وزیراعظم نامزد کرنے پر وفاقی وزیرِقانون اعظم نذیر تارڑ کا موقف آ گیا !!!
عوام نے جسے ووٹ نہ دے کر مسترد کر دیا مسلم لیگ ن اُسے آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنا رہی ہے؟ سوال
یہ سیاسی فیصلے ہوتے ہیں کوئی لکھے پڑھے رولز نہیں، اس سوال کا بہتر… pic.twitter.com/j3GhzOzE1T
— Ehtsham Kiani (@ehtshamkiani) August 27, 2026
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وہ قانون کے طالب علم ہیں، اگر ان سے قانونی پہلو سے پوچھا جائے تو ان کا مؤقف ہے کہ اگر آزاد کشمیر کا آئین اور قانون کسی شخص کو وزیراعظم بننے سے منع نہیں کرتا تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کے وزیراعظم نامزد ہونے والے بیرسٹر افتخار گیلانی کون ہیں؟
انہوں نے واضح کیا کہ معاملے کا سیاسی پہلو سیاسی ٹیم بہتر طور پر بیان کرسکتی ہے، جبکہ قانونی اعتبار سے آئین و قانون کی پابندی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی کو وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر کے منصب کے لیے پارٹی کا امیدوار نامزد کیا ہے۔














