پاکستان کے سابق کپتان و عظیم فاسٹ بولر وسیم اکرم اور ان کی اہلیہ شنیرا اکرم نے اپنی 14 سالہ ازدواجی زندگی، محبت، بچوں کی پرورش، کرکٹ، ماضی کے تنازعات اور موجودہ مصروفیات سمیت مختلف موضوعات پر کھل کر گفتگو کی ہے۔
وسیم اکرم اور شنیرا اکرم کی شادی کو 14 برس مکمل ہوچکے ہیں۔ دونوں نے اپنی شادی کے ابتدائی دنوں میں میڈیا اور عوام کی جانب سے مختلف سوالات اور قیاس آرائیوں کا سامنا کیا، تاہم وقت کے ساتھ ان کا رشتہ مزید مضبوط ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: وسیم اکرم کی 60ویں سالگرہ، اکاؤنٹ بلاک ہونے پر شنیرا اکرم کا بھارتی مداحوں کے نام خصوصی پیغام
شنیرا اکرم نے بتایا کہ جب ان کی وسیم اکرم سے شادی ہوئی تو عمر کے فرق، مختلف ثقافتوں اور وسیم کی پہلی شادی سمیت کئی معاملات پر باتیں ہوئیں، لیکن انہوں نے ان چیزوں کو کبھی اپنی محبت کی راہ میں رکاوٹ نہیں سمجھا۔
View this post on Instagram
ان کے مطابق ان کی والدہ محبت پر یقین رکھتی تھیں اور انہوں نے انہیں مشورہ دیا کہ زندگی میں پچھتاوے سے بہتر ہے کہ محبت کو ایک موقع دیا جائے۔ شنیرا کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی خوف کی وجہ سے اپنی زندگی کا اہم فیصلہ نہیں کیا۔
شنیرا نے یہ بھی بتایا کہ جب وہ پہلی مرتبہ وسیم اکرم سے ملیں تو وہ نہیں جانتی تھیں کہ وہ پاکستان کے کتنے بڑے کرکٹر ہیں۔ وسیم نے اپنی مقبولیت کا ذکر کرکے انہیں متاثر کرنے کی کوشش بھی کی، جس پر شنیرا نے انہیں بتایا کہ یہ حربہ ان پر کارگر نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: وسیم اکرم کے بعد شاہد آفریدی کا کتا بھی لاپتا، مداحوں سے تلاش میں مدد کی اپیل
پاکستان آنے کے بعد جب انہوں نے ہر طرف وسیم اکرم کے اشتہارات دیکھے تو انہیں اندازہ ہوا کہ ان کے شوہر پاکستان میں کتنے مقبول ہیں۔ شنیرا کے مطابق وہ چاہتی تھیں کہ لوگ انہیں بھی عزت اور محبت دیں، تاہم وہ اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے اپنی شخصیت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتی تھیں۔

وسیم اکرم نے اپنی 14 سالہ شادی کے بارے میں کہا کہ ان کے ساتھ گزرنے والے سال شاندار رہے اور وقت کے ساتھ معاملات مزید بہتر ہوئے۔ شنیرا کے مطابق ہر شادی میں اچھے اور مشکل دور آتے ہیں، تاہم اگر تقریباً 10 برس بعد میاں بیوی ایک دوسرے کے بہترین دوست بن جائیں اور ساتھ زندگی سے لطف اندوز ہوں تو رشتہ طویل عرصے تک قائم رہنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
بچوں کی پرورش
شنیرا نے وسیم اکرم کے پہلے نکاح سے ہونے والے بیٹوں اکبر اور تیمور کے ساتھ اپنے تعلق پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ ان سے ملیں تو انہیں دونوں سے محبت ہوگئی تھی۔
View this post on Instagram
ان کے مطابق ایک وقت ایسا آیا جب انہیں محسوس ہوا کہ انہیں صرف دوست نہیں بلکہ ان کی ماں کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے بچوں سے کہا تھا کہ بعض اوقات وہ ان سے ناراض ہوں گے، لیکن وہ ہمیشہ ان کے ساتھ رہیں گی اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گی۔
وسیم اکرم نے بتایا کہ انہوں نے کبھی اپنے بیٹوں پر کرکٹ کھیلنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا اور انہیں اپنی پسند کا شعبہ منتخب کرنے کی آزادی دی۔
پاکستانی کرکٹ کی موجودہ صورتحال
وسیم اکرم نے پاکستانی کرکٹ کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب قومی ٹیم اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرتی تو شائقین کی دلچسپی کم ہوجاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں کرکٹ قومی کھیل کی طرح عوام کے دلوں میں چھائی ہوئی تھی اور 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں کھلاڑیوں کو قومی ہیرو سمجھا جاتا تھا۔
اپنے ماضی کے حوالے سے وسیم اکرم نے کہا کہ وہ اب ماضی میں نہیں جیتے۔ ان کے مطابق جو کچھ گزر گیا اسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا، اس لیے وہ مستقبل کی منصوبہ بندی اور حال میں زندگی گزارنے پر یقین رکھتے ہیں۔
ماضی کے تنازعات پر وسیم اکرم کا مؤقف
وسیم اکرم نے اپنی خودنوشت کتاب میں اپنی زندگی کے مختلف مشکل ادوار کا ذکر کرنے پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ کتاب لکھنا آسان نہیں تھا کیونکہ اس دوران انہیں اپنی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ مشکلات اور سانحات کو بھی دوبارہ یاد کرنا پڑا۔

ماضی میں میچ فکسنگ سے متعلق بحث پر وسیم اکرم نے کہا کہ پاکستان میں آج بھی بہت سے لوگ اس معاملے پر بات کرتے ہیں، حالانکہ ان میں سے بعض لوگ اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی وضاحت کئی مرتبہ دے چکے ہیں اور اب اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکے ہیں۔
وسیم اکرم کی موت کی جعلی ویڈیو
وسیم اکرم کی موت سے متعلق مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ایک جعلی ویڈیو کے وائرل ہونے کا ذکر بھی گفتگو میں ہوا۔
وسیم اکرم نے کہا کہ اس ویڈیو کو دیکھ کر انہیں زیادہ پریشانی نہیں ہوئی، بلکہ لوگوں کے پیغامات پر انہوں نے مزاحیہ انداز میں جواب دیا۔
شنیرا نے کہا کہ ایسے واقعات کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے، تاہم مصنوعی ذہانت کے دور میں لوگوں کو معلومات کی تصدیق اور درست و غلط مواد میں فرق کرنے کے حوالے سے زیادہ محتاط اور باخبر ہونے کی ضرورت ہے۔
شنیرا کی سماجی سرگرمیاں
شنیرا نے کہا کہ وہ کراچی اور میلبورن دونوں کو اپنا گھر سمجھتی ہیں اور اگر انہیں کوئی ایسی چیز نظر آئے جس سے کسی کو نقصان پہنچ سکتا ہو تو وہ اس پر بات کیے بغیر نہیں رہ سکتیں۔

انہوں نے صحت، صفائی اور حفاظتی اقدامات سمیت مختلف سماجی معاملات پر آواز اٹھانے کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ گزشتہ 14 برس میں معاشرے میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں۔
شنیرا نے وسیم اکرم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی ان کی آواز کو دبانے کی کوشش نہیں کی بلکہ انہیں اپنی رائے کے اظہار کی آزادی دی۔
حج اور 60ویں سالگرہ
وسیم اکرم نے بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں حج ادا کیا اور دورانِ حج ان کی عمر 60 برس ہوگئی۔
View this post on Instagram
انہوں نے کہا کہ جسمانی طور پر وہ خود کو اب بھی بہت بہتر محسوس کرتے ہیں اور وہ بہت سے ایسے کام کرسکتے ہیں جو 20 برس پہلے کرتے تھے۔
شنیرا نے کہا کہ پاکستان میں بہت سے لوگ 60 برس کی عمر کو بڑھاپا سمجھتے ہیں، تاہم اگر انسان اپنی صحت کا خیال رکھے تو 60 برس کی عمر 40 برس جیسی محسوس ہوسکتی ہے۔














