وفاقی حکومت نے گیس کی الگ الگ سلیب پر مبنی قیمتوں کے موجودہ نظام پر نظرثانی کرتے ہوئے تمام صارفین کے لیے ایک ہی اوسط قیمت (یونیفارم گیس پرائس) مقرر کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد کراس سبسڈیز کو ختم کرنا اور گیس کے شعبے کو معاشی طور پر مستحکم بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور میں گیس کی فراہمی عارضی معطل، ’ایس این جی پی ایل‘ نے شیڈول جاری کردیا
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ مختلف سلیبس کے ذریعے گیس سبسیڈی کا موجودہ نظام ناکافی ہے اور اس پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام صارفین کے لیے ایک منصفانہ قیمت مقرر کی جائے گی جبکہ مستحق طبقے کو براہِ راست ٹارگٹڈ سبسیڈی دی جائے گی۔
اس وقت اوگرا کی جانب سے طے شدہ اوسط قیمت 1,700 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہے، لیکن صارفین کو 500 سے 4,300 روپے تک کے مختلف نرخوں پر گیس فراہم کی جاتی ہے۔ آئی ایم ایف اور اوگرا نے تمام سبسیڈیز ختم کر کے گیس کی اصل لاگت وصول کرنے کی ہدایت کی ہے۔
Federal Minister for Petroleum Ali Pervaiz Malik chaired a meeting with SSGCL Board and management in Karachi, directing a sustainable business model focused on UFG reduction, efficiency, revenue recovery and curbing gas theft. pic.twitter.com/ektYGDSFrG
— Petroleum Division, Ministry of Energy (@Official_PetDiv) August 27, 2026
گردشی قرضے اور قیمتیں: وزیرِ پیٹرولیم نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران گیس کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، جس سے گیس کے گردشی قرضے میں تقریباً 55 ارب روپے کی کمی آئی ہے اور اس کا بڑھنا تقریباً رک گیا ہے۔
مزید پڑھیے: حکومت کا گیس شعبے میں اصلاحات کا منصوبہ، سوئی کمپنیوں کی تقسیم اور نجکاری پر غور
سوئی سدرن کی کارکردگی: اجلاس میں بتایا گیا کہ کمپنی نے گیس کے ضیاع میں حجم کے اعتبار سے 57 فیصد تک نمایاں کمی کی ہے۔ کے الیکٹرک، انڈسٹری اور کھاد کے کارخانوں کے لیے گیس کی لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی جبکہ گھریلو صارفین کو دن میں 3 وقت گیس فراہم کی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی تعاون اور اصلاحات
حکومت ورلڈ بینک کے ساتھ مل کر گیس سیکٹر کی جامع اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز ایکٹ کے تحت بورڈ کو مکمل طور پر بااختیار بنا کر کمپنی کو مالی طور پر خود مختار بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان کابینہ کے تاریخی فیصلے، گوادر میں 14 ارب ڈالر کے بڑے گیس ٹرمینل کی منظوری
اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت بلوچستان کے لیے قائم سیاسی کمیٹی کا خیرمقدم کیا گیا۔ وزیر پیٹرولیم نے بلوچستان میں گیس کی فراہمی، بنیادی ڈھانچے کے مسائل اور گیس چوری کی روک تھام کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کی۔














