نیپال اور تبت کے سرحدی پہاڑوں میں 5,200 میٹر کی بلندی سے گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ کر ندی میں گرنے سے پیدا ہونے والے کیچڑ اور ملبے کے تندوتیز ریلے نے 180 سے زیادہ افراد کی جان لے لی۔
زلزلہ پیما آلات پر 5.2 شدت کے ’زلزلے‘ کے طور پر ریکارڈ ہونے والے اس حادثے نے لمحوں میں سرحدی چوکیوں، پلوں اور عمارتوں کو تباہ کر دیا۔
ماہرین کے مطابق سائنسی اور سیٹلائٹ شواہد نے تصدیق کی ہے کہ یہ زلزلہ نہیں بلکہ برفانی تودے کے ٹوٹنے سے بننے والی کیچڑ کی ہولناک لہر تھی۔
زلزلے کا فریب اور سائنسی انکشاف
مقامی وقت کے مطابق صبح 8:37 بجے (پاکستان کے وقت کے مطابق صبح 7:52 بجے) جب زلزلہ پیما آلات پر 5.2 شدت کے جھٹکے ریکارڈ ہوئے تو شروعات میں اسے عام زلزلہ ہی مانا گیا۔
Pray for Nepal Hundreds missing and many feared dead after massive flash flood hits Nepal-China border pic.twitter.com/ua4GpSZKYT
— AhMad 𝕏 Ansari (@Ahmadansari2233) August 27, 2026
تاہم امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے گہرے تجزیے کے بعد یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی کہ اس وقت علاقے میں کوئی زلزلہ نہیں آیا تھا، بلکہ یہ گلیشیئر کے کھسکاؤ اور ملبے کے شدید بہاؤ کا اثر تھا جس نے زلزلے جیسا زبردست جھٹکا پیدا کیا۔
نیوزی لینڈ کے ‘جی این ایس سائنس’ کے چیف سائنٹسٹ سیمو کوکس کے مطابق گرنے والے برفانی تودے کا حجم 5 لاکھ سے کئی کروڑ کیوبک میٹر تک ہو سکتا ہے۔
ہزاروں میٹر کی بلندی سے گرنے والے اس برف کے ٹکڑے نے وادی میں نیچے آتے ہوئے راستے سے پتھر، مٹی اور درخت اپنے اندر سمیٹے اور ایک خوفناک سیلابی ریلے کی شکل اختیار کر لی۔
سی سی ٹی وی مناظر اور تباہی کا پھیلاؤ
تباہی کے شروعاتی سیکنڈز کے دوران کیمرے میں محفوظ ہونے والے المناک سی سی ٹی وی مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیچڑ اور ملبے کا ایک دیوہیکل ریلا سرحدی چوکی پر آن پڑا اور لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے بدحواسی میں بھاگتے رہے۔
🇨🇳🇳🇵 Gigantesca avalanche de lama toma conta do posto fronteiriço Rasuwagadhi, na fronteira da China com o Nepal, soterrando completamente toda a região. pic.twitter.com/NKt2v5Q9W7
— Análise Geopolítica (@AnaliseGeopol) August 26, 2026
سرحدی چوکی کو لپیٹ میں لینے کے بعد یہ سیلابی ریلا نیپال کی حد میں داخل ہوا اور یکے بعد دیگرے دیہاتوں، پلوں اور عمارتوں کو بہا لے گیا۔
نیپالی حکام کے مطابق حادثے کے فوراً بعد پانی کے مانیٹرنگ اسٹیشنز کا رابطہ کٹنا شروع ہو گیا۔ تبت کی سرحد کے قریب واقع علاقے کالیکھولا میں دوپہر 2:14 بجے پانی کی سطح 12.3 میٹر تک بلند ریکارڈ کی گئی تھی۔
کیا یہ ‘گلوف’ تھا؟ سیلاب کی سائنسی وجہ
ابتدائی طور پر ماہرین کا خیال تھا کہ یہ حادثہ ‘گلوف’ یعنی گلیشیئر کی جھیل کے پھٹنے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ گلوف اس وقت رونما ہوتا ہے جب برف یا ملبے کی کمزور دیوار کے پیچھے جمع پانی اچانک بند توڑ کر باہر نکل آتا ہے۔
What Actually Triggered the Nepal–Tibet Border Flash Flood?
A massive ice and rock avalanche from a glacier triggered a chain reaction near the Nepal–China border. The avalanche and debris blocked the river, forming a temporary barrier lake. When the blockage gave way, a… pic.twitter.com/raaCcjQClO
— Deadly Kalesh (@Deadlykalesh) August 27, 2026
آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف دی سن شائن کوسٹ کے ماہرِ گلیشیولوجی ایڈریئن میک کیلم کا کہنا ہے کہ ‘اتنی بڑی مقدار میں پانی کا اچانک وادی میں بہنا بتاتا ہے کہ کوئی جمع شدہ پانی آزاد ہوا ہے’۔
لیکن دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ واقعے کے مقام کے قریب کسی جھیل کے شواہد نہیں ملے۔ ان کا نظریہ ہے کہ گلیشیئر کے نیچے جمع شدہ پانی اس تودے کے ساتھ نیچے آ گرا، یا پھر گرنے والی برف نے ندی کا راستہ عارضی طور پر روک دیا تھا جس کے ٹوٹنے سے یہ تباہی پھیلی۔
مون سون کی بارشوں اور گرمیوں کی پگھلتی برف کی وجہ سے ندیوں میں پانی کا بہاؤ پہلے ہی کافی تیز تھا۔
پیشگی خبردار کرنے کے باوجود بچنا ناممکن کیوں؟
نیپالی حکام کو صبح 9:00 بجے کے قریب سیلاب کی پہلی اطلاع ملی، جس کے بعد انہوں نے بھوٹے کوشی ندی کے ارد گرد رہائش پذیر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے پیغامات جاری کیے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ پیغامات بروقت کتنے لوگوں تک پہنچ سکے۔
ٹیکساس یونیورسٹی کے ہائیڈرولوجسٹ حاتم شریف کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں لوگوں کے پاس سنبھلنے کا وقت نہیں ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘پیدل بھاگنا یا گاڑی کے ذریعے نکلنے کی کوشش کرنا بے سود ہے کیونکہ یہ کیچڑ اور پانی اتنی تیز رفتاری سے حرکت کرتا ہے جیسے ‘لیکوڈ کنکریٹ’ بہہ رہا ہو’۔
จากเมืองเล็กๆที่สวยมากๆๆ หายวาบไปภายในเวลาไม่กี่นาที😳 จากภัยธรรมชาติ ขอให้ทุกคนปลอดภัย😭#น้ำท่วมเนปาล #Nepal pic.twitter.com/t1CsULUtca
— Pu Plaifah (@Plaifahzhang) August 26, 2026
ان کا اندازہ ہے کہ بچاؤ کی واحد صورت یہی ہوتی ہے کہ انسان فوراً کم از کم 20 فٹ (6 میٹر) اونچی پہاڑی یا جگہ پر چڑھ جائے۔
لوبل وارمنگ اور برفانی دباؤ
یہ سانحہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب کرہ ارض پر بڑھتی ہوئی حرارت گلیشیئرز کو تیزی سے پگھلا رہی ہے۔ اگرچہ کسی ایک انفرادی واقعے کو براہِ راست موسمیاتی تبدیلی سے جوڑنا سائنسی طور پر پیچیدہ ہوتا ہے، لیکن ماہرینِ ماحولیات کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں اضافہ قدیم برفانی ندیوں کے لیے ایک مسلسل خطرہ بن چکا ہے۔
وکٹوریہ یونیورسٹی آف ویلنگٹن کی گلیشیولوجسٹ لارین وارگو کے مطابق ماہرین حادثے سے پہلے اور بعد کی سیٹلائٹ تصویروں کا موازنہ کر کے یہ معلوم کر رہے ہیں کہ پہاڑ کا کتنا حصہ غائب ہوا ہے۔
ان کے مطابق ایسے واقعات کے خطرے کو کم کرنے کا واحد حل گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کر کے زمین کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو قابو میں لانا ہے۔














