میانمار کی فوجی حمایت یافتہ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ بنگلہ دیش کے کیمپوں میں مقیم 3 لاکھ سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں کی تصدیق ہوچکی ہے کہ وہ مغربی ریاست رخائن کے سابق رہائشی ہیں اور سیکیورٹی صورتحال بہتر ہونے کے بعد انہیں واپس قبول کیا جائے گا۔
میانمار کی وزارت خارجہ کا یہ بیان روہنگیا پناہ گزینوں کے بحران کے نویں سال میں داخل ہونے کے موقع پر سامنے آیا ہے۔
وزارت کے مطابق بنگلہ دیش کی جانب سے فراہم کردہ 8 لاکھ 28 ہزار 824 افراد کی فہرست میں سے جولائی کے اختتام تک 4 لاکھ 26 ہزار 545 افراد کی جانچ پڑتال مکمل کی گئی، جن میں سے 3 لاکھ 8 ہزار 797 کو رخائن کے سابق رہائشی قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش کا روہنگیا بحران پر اقوام متحدہ سے مؤثر تعاون بڑھانے کا مطالبہ
حکام کے مطابق ایک لاکھ 13 ہزار 507 افراد کی تصدیق نہیں ہوسکی، جبکہ 4 ہزار 241 افراد کے بارے میں کہا گیا کہ وہ مبینہ طور پر ’دہشتگردانہ سرگرمیوں‘ میں ملوث رہے ہیں۔
روہنگیا بحران 2017 میں شدت اختیار کر گیا تھا جب میانمار کی فوج نے رخائن میں سیکیورٹی چوکیوں پر روہنگیا باغیوں کے حملوں کے بعد بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی۔ اس کے نتیجے میں 7 لاکھ سے زائد روہنگیا بنگلہ دیش فرار ہوگئے، جہاں پہلے ہی میانمار میں ہونے والے سابقہ فوجی تشدد کے نتیجے میں لاکھوں افراد پناہ لے چکے تھے۔ کارروائی کے پیمانے اور شدت پر عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی جانب سے نسلی صفائی اور نسل کشی کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ، امدادی فنڈز میں نمایاں کمی سے بحران شدت اختیار کر گیا
میانمار اور بنگلہ دیش نے 2018 میں روہنگیا کی واپسی کے لیے دو سالہ منصوبے پر اتفاق کیا تھا، تاہم 2021 میں میانمار کی فوج کی جانب سے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ملک میں مسلح مزاحمت اور بدامنی بڑھ گئی، جس کے باعث واپسی کا منصوبہ کامیاب نہ ہوسکا۔
2023 سے رخائن میں فوج اور اراکان آرمی کے درمیان لڑائی نے صورتحال مزید پیچیدہ کردی، جبکہ پناہ گزین کیمپوں میں ابتر حالات، غیر ملکی امداد میں کمی اور محفوظ واپسی کے امکانات نہ ہونے کے باعث متعدد روہنگیا خطرناک سمندری راستوں سے ملائیشیا اور انڈونیشیا جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔














