بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی جانب سے 12 اگست کو سوراب میں دہشتگردوں کے بارودی دھماکے کو شہریوں پر ‘فضائی حملہ’ بنا کر پیش کرنے کا بین الاقوامی پروپیگنڈا بے نقاب ہو گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کی بارود سے بھری گاڑی کے قبل از وقت دھماکے اور سیکیورٹی فورسز کے کلیئرنس آپریشن میں مجموعی طور پر 18 دہشتگرد ہلاک ہوئے، جبکہ عالمی برادری کو گمراہ کرنے کے لیے ’بی این ایم‘ انسانی حقوق کا سہارا لے کر دہشتگردانہ نیٹ ورک کو سیاسی تحفظ فراہم کر رہی ہے۔
سوراب واقعہ کی حقیقت اور سیکیورٹی فورسز کا آپریشن
رپورٹ کے مطابق 12 اگست کو ضلع سوراب میں فتنہ الہندوستان (ایف اے ایچ) سے تعلق رکھنے والے دہشتگرد ایک رہائشی علاقے کے قریب خودکش گاڑی (وی بی آئی ای ڈی) تیار کر رہے تھے کہ بارودی مواد قبل از وقت دھماکے سے پھٹ گیا۔
Following Pakistan’s airstrike on Surab on 12 August, which killed civilians including women and children, the BNM Foreign Department launched a major international advocacy campaign to ensure the attack does not go unanswered.
Our outreach has now reached more than 300 elected… pic.twitter.com/pkf1Low7Dl
— BNM Foreign Department (@ForeignDeptBNM) August 27, 2026
اس دھماکے اور وہاں ذخیرہ شدہ بارود کی زد میں آ کر 8 دہشتگرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ قریب میں رہنے والے 3 عام شہری بھی جاں بحق ہوئے۔
واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز اور بلوچستان پولیس نے مشترکہ کلیئرنس آپریشن شروع کیا جس کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں مزید 10 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا، یوں ہلاک دہشتگردوں کی کل تعداد 18 ہو گئی جبکہ آپریشن کے دوران 2 اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
بی این ایم کا جھوٹا بیانیہ اور بین الاقوامی لابی کی ناکام کوشش
اس واقعے کے بعد ’بی این ایم‘ نے عالمی اداروں، غیر ملکی حکومتوں، پارلیمنٹرینز اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطہ کر کے اس سیکیورٹی آپریشن کو شہریوں پر دانستہ حملہ قرار دینے کی مہم چلائی۔
یہ بھی پڑھیں:کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی کو فوری طور پر عالمی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے، چین کا سلامتی کونسل میں مطالبہ
بی این ایم نے اپنے بیانیے میں اس اہم حقیقت کو مکمل طور پر چھپایا کہ دہشتگردوں نے رہائشی علاقے میں دھماکہ خیز مواد کیوں ذخیرہ کر رکھا تھا۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے، اس سے قبل ‘نوشکی محاصرے’ کے جھوٹے بیانیے میں بھی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دفعہ 144 کے تحت لگائی گئی عارضی پابندیوں کو فوج کا ‘طویل محاصرہ’ اور ‘انسانی بحران’ بنا کر پیش کیا گیا تھا۔
بی این ایم کی تشہیری مہم کا مقصد فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے جرائم پر پردہ ڈالنا اور پاکستان پر بین الاقوامی دباؤ بڑھانا ہے۔
آپریشن عزمِ استحکام اور 2026 میں انسدادِ دہشتگردی کی پیش رفت
یہ آپریشن نیشنل ایکشن پلان کی وفاقی اپیکس کمیٹی کے منظوردہ فریم ورک ‘عزمِ استحکام’ کے تحت انجام دیا گیا۔ سوراب واقعے سے ایک روز قبل بھی پنجگور میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی میں فتنہ الہندوستان کے 5 دہشت گرد ہلاک کیے گئے تھے۔
سال 2026 کے دوران ملک بھر میں 40,348 سے زیادہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں سے 31,000 سے زیادہ کارروائیاں صرف بلوچستان میں ہوئیں۔
ان تمام آپریشنز کے نتیجے میں ملک بھر میں 2,084 دہشتگردوں کا خاتمہ کیا گیا، جبکہ صرف جولائی 2026 میں بلوچستان کے اندر 238 دہشتگرد مارے گئے۔
غیر جانبدار تحقيقي ادارے ‘سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز’ (سی آر ایس ایس) کی رپورٹ کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی میں تشدد سے ہونے والی 96 فیصد ہلاکتیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خطے میں دہشتگردی ایک حقیقی چیلنج ہے نہ کہ ریاست کا من گھڑت جواز۔
فتنہ الہندوستان اور بی این ایم کا گٹھ جوڑ
پاکستان نے بلوچستان میں تخریب کاری اور دہشتگردی پھیلانے والے گروہوں کو بھارت کی سرپرستی کی بنا پر ‘فتنہ الہندوستان’ کا نام دیا ہے۔
مزید پڑھیں:بلوچستان میں کالعدم تنظیموں کی سرکوبی ضروری ہے، وزیر داخلہ سرفراز بگٹی
بی این ایم کا بین الاقوامی بیانیہ اور لابی کی کوششیں کالعدم بی ایل اے اور بی ایل ایف کے آزاد بلوچستان کے ایجنڈے کا ہی سیاسی اور سفارتی روپ ہیں۔
بی این ایم غیر ملکی پلیٹ فارمز پر انسانی حقوق کا واویلا تو کرتی ہے لیکن فتنہ الہندوستان کی جانب سے واشک، تربت اور خضدار میں مزدوروں کے اغواء و قتل، بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں کی تباہی پر مکمل خاموشی اختیار کیے رکھتی ہے۔
سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عزمِ استحکام کے تحت اپنا انسدادِ دہشتگردی آپریشن جاری رکھیں گے تاکہ عام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور رہائشی علاقوں کو دہشتگردی کی آماجگاہ بننے سے روکا جا سکے۔














