پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور حلقہ ایل اے 10 سٹی 3 کوٹلی سے ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین کو آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مقرر کر دیا گیا ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن اسپیکر طارق فاروق نے جاری کر دیا ہے۔
چوہدری یاسین اس سے قبل 2016 سے 2021 تک بھی ایوان میں ‘قائد حزب اختلاف’ کے اہم عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر طارق فاروق کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے بعد چوہدری محمد یاسین نے ایوان میں اپوزیشن کی قیادت سنبھال لی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چوہدری لطیف اکبر یا چوہدری یاسین؟ آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کا اعلان کل متوقع
چوہدری یاسین نے حالیہ عام انتخابات میں ضلع کوٹلی کے 2 حلقوں یعنی حلقہ 5 چڑہوئی اور ایل اے 10 کوٹلی سٹی سے حصہ لیا تھا۔
اگرچہ چڑہوئی کی نشست پر انہیں مسلم لیگ ن کے امیدوار راجا ریاست کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا، تاہم انہوں نے کوٹلی سٹی سے کامیابی حاصل کر کے اسمبلی میں اپنی شمولیت اور اپوزیشن کی قیادت پر اپنا دعویٰ مضبوط کیا۔
2021 کے انتخابات اور خاندانی سیاسی تسلسل
اس سے قبل 2021 کے عام انتخابات میں چوہدری یاسین نے کوٹلی سٹی اور چڑہوئی دونوں حلقوں سے انتخاب لڑا تھا اور دونوں نشستوں پر شاندار کامیابی حاصل کی تھی۔
بعد ازاں انہوں نے اپنی آبائی نشست سے استعفیٰ دے کر اپنے بیٹے چوہدری عامر یاسین کو ضمنی انتخاب میں میدان میں اتارا، جنہوں نے الیکشن جیت کر ایوان میں نمائندگی حاصل کی۔
چوہدری یاسین کا 4 دہائیوں پر محیط سیاسی سفر
پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری محمد یاسین کا تعلق ضلع کوٹلی کے علاقے چڑہوئی سے ہے اور ان کا شمار خطے کے سینیئر ترین سیاستم دانوں میں ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیپلز پارٹی کا آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کا فیصلہ، آصف زرداری نے تحریک عدم اعتماد لانے کی منظوری دیدی
انہوں نے اپنی سیاست کا آغاز 80 کی دہائی میں کیا اور 1985 میں پہلا ڈسٹرکٹ کونسلر کا الیکشن لڑا جس میں انہیں کامیابی نہ مل سکی۔
تاہم 1990 میں انہوں نے آزاد مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے اپنا پہلا پارلیمانی الیکشن لڑا اور اس وقت کے سینیئر وزیر حاجی راجا اکرم کو شکست دے کر پہلی بار ممبر اسمبلی منتخب ہوئے۔
آزاد مسلم کانفرنس 1992 میں جموں و کشمیر لبریشن لیگ میں ضم ہوئی، جو بعد میں شہید بینظیر بھٹو کی خواہش پر پاکستان پیپلز پارٹی کا حصہ بن گئی۔
چوہدری یاسین نے 1996 کا الیکشن پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر لڑا اور بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔
2001 کے انتخابات میں انہوں نے اپنے کزن چوہدری امین کو میدان میں اتارا جنہوں نے کامیابی حاصل کی، جبکہ 2006 کے انتخابات میں انہیں مسلم کانفرنس کے امیدوار میجر (ر) منصف داد سے شکست ہوئی، تاہم اس دورانیے میں وہ مشیر بلدیات رہے۔
2011 کے انتخابات میں وہ ایک بار پھر بھاری اکثریت سے جیتے اور آزاد کشمیر کابینہ میں سینیئر وزیر کا قلمدان سنبھالا، جس کے بعد 2016 کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کے راجا اقبال کو ہرا کر کامیابی حاصل کی اور 2021 تک قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے فرائض انجام دیے۔














