بھارت جان لے، پانی ہماری ریڈ لائن ہے، 25 کروڑ پاکستانیوں کی آبی بقا پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، اسحاق ڈار

جمعہ 28 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے منعقدہ سیمینار سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ 25 کروڑ پاکستانیوں کے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو جنوبی ایشیا میں بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

معاہدے کی قانونی حیثیت اور عالمی قوانین

اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ طاس محض ایک روایتی معاہدہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ قانونی فریم ورک ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا عالمی آبی نظم کے لیے خطرناک مثال

پانی انسانی زندگی، غذائی اور معاشی تحفظ کی بنیادی ضرورت ہے اور ریاستوں کے درمیان اس کی منصفانہ تقسیم صرف عالمی قوانین کے تحت ہی ممکن ہے۔

انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960 میں طے پانے والے اس معاہدے کا باقاعدہ ثالث عالمی بینک ہے، جس کی پاسداری دونوں ممالک پر لازم ہے۔

دریاؤں کی تقسیم اور تنازعات کے حل کا طریقہ کار

پانی کی تقسیم کے حوالے سے نائب وزیراعظم نے واضح کیا کہ معاہدے کے تحت بھارت دریائے راوی، بیاس اور ستلج کا پانی استعمال کرنے میں آزاد ہے، جبکہ پاکستان کو دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر بلا روک ٹوک استعمال کا حق حاصل ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان انڈس واٹر کمیشن فعال ہے اور کسی بھی قسم کے اختلاف کو حل کرنے کے لیے ایک باضابطہ طریقہ کار موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قوانین کی پاسداری سے ہی مشکل ترین معاملات کا پرامن حل نکالا جا سکتا ہے۔

آبی تحفظ، قومی سلامتی اور عالمی برادری سے اپیل

نائب وزیراعظم نے بھارت کے حالیہ اقدامات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی نے جان بوجھ کر اس عالمی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کیا ہے، جو خطے کے لیے تشویشناک ہے۔

سندھ طاس معاہدہ 25 کروڑ سے زیادہ پاکستانیوں کی زندگی کا ضامن ہے، کیونکہ ملک کا معاشی اور غذائی تحفظ اسی سے جڑا ہے۔

مزید پڑھیں:بھارت کی عدم شرکت کے باوجود سندھ طاس معاہدے کے تحت کارروائی جاری، پاکستان کی اہم قانونی کامیابی

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کا حامی ہے لیکن اپنے جائز آبی حقوق کے تحفظ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔

سندھ طاس معاہدہ اور پاک بھارت آبی تنازع

سندھ طاس معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی اور ضمانت میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا تھا، جسے خطے میں آبی وسائل کی تقسیم کا ایک انتہائی موثر اور کامیاب عالمی ماڈل سمجھا جاتا ہے۔

اس معاہدے کے تحت مشرقی دریاؤں پر بھارت اور مغربی دریاؤں پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔ حالیہ کچھ عرصے سے بھارت کی جانب سے مغربی دریاؤں پر متنازع ڈیموں کی تعمیر اور معاہدے کی شقوں پر یکطرفہ نظرثانی کے مطالبات نے دونوں ایٹمی پڑوسیوں کے درمیان آبی تناؤ میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp