پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی اموات کے المناک واقعے پر حکومت نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز سمیت متعلقہ افسران کو معطل کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا عمل شروع کردیا، حکومت کا کہنا ہے کہ کسی بھی سطح کی غفلت کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا جبکہ فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس، سیکیورٹی اور دیگر حفاظتی نظام کی فوری اصلاح بھی کی جا رہی ہے۔
حکومت کے مطابق پمز میں پیش آنے والے سانحے کو محض انتظامی واقعہ نہیں بلکہ انسانی جانوں، ادارہ جاتی ذمہ داری اور عوامی اعتماد کا معاملہ سمجھتے ہوئے فوری انکوائری، شواہد کی بنیاد پر ذمہ داری کے تعین اور اصلاحی اقدامات کا آغاز کیا گیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز سمیت متعلقہ افسران کی معطلی اس بات کی عکاس ہے کہ احتساب عہدے یا حیثیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ذمہ داری اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:سانحۂ پمز: 14 بچوں کی میتیں والدین جبکہ ایک لاوارث بچے کی میت ایدھی کے سپرد
حکام کے مطابق آگ لگنے کی حتمی تکنیکی وجہ اور کسی فرد کی مجرمانہ ذمہ داری کا تعین فرانزک معائنے اور مکمل تحقیقات کے بعد کیا جائے گا، اس لیے قبل از وقت الزامات اور سیاسی قیاس آرائیوں سے گریز ضروری ہے۔
حکومت نے فائر سیفٹی، الارم اور اسپرنکلر سسٹم، ایمرجنسی رسپانس، سیکیورٹی پروٹوکول، انخلا کے راستوں، برقی نظام، آکسیجن کے انتظامات اور متعلقہ ایس او پیز کی اصلاح کا عمل بھی شروع کردیا ہے۔ ملک بھر کے اسپتالوں کے فائر سیفٹی آڈٹ اور معیاری تربیت پر بھی کام آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
حکومت نے سانحے کے دوران بچوں کو بچانے کی کوشش کرنے والے فرنٹ لائن عملے کی بہادری کو سراہتے ہوئے نرس رضیہ نورین کو ستارۂ خدمت اور مالی اعانت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سانحہ پمز، بچوں کو کیوں نہ بچایا جا سکا؟، تحقیقاتی کمیٹی نے 11 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کردی
حکام کے مطابق جاں بحق نومولود بچوں کے لواحقین سے ہمدردی رکھتے ہوئے انہیں مالی معاونت اور انصاف کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، جبکہ عبوری انکوائری رپورٹ عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ سانحے سے سبق سیکھتے ہوئے صحت کے اداروں میں حفاظتی نظام بہتر بنایا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام اور عوام کے اعتماد کی بحالی یقینی بنائی جاسکے۔













