پمز کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے 14 نومولود بچوں کی میتوں کی والدین اور لواحقین کو حوالگی کی مزید تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ واقعے میں مجموعی طور پر 14 نومولود جاں بحق ہوئے تھے۔
مزید پڑھیں:ڈاکٹر محمد سلمان پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات، نوٹیفکیشن جاری
ذرائع کے مطابق 13 بچوں کی میتیں ان کے والدین کے حوالے کردی گئیں، جبکہ ایک بچے کی میت والدین کی عدم دستیابی کے باعث ایدھی فاؤنڈیشن کے سپرد کردی گئی۔
پمز ذرائع کے مطابق مذکورہ بچہ 21 جون کو پیدا ہوا تھا اور اس کی والدہ بچے کو پمز میں چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ بچہ 21 جون سے اسپتال کی نرسری میں زیر علاج تھا۔
The CCTV footage belies the claims of ministers that infants in PIMS died due to lack of oxygen, plenty of smoke. The rapid spread of fire has apparently burnt everyone and everything to ashes in just a few seconds. pic.twitter.com/m3UKZJqDtA
— Riaz ul Haq (@Riazhaq) August 29, 2026
ذرائع کا کہنا ہے کہ میتوں کی شناخت اور لواحقین کے حوالے کیے جانے کے وقت مذکورہ بچہ لاوارث تھا۔ پمز انتظامیہ کے مطابق 15 سالہ کم عمر ماں بچے کی پیدائش کے بعد روپوش ہوگئی تھی اور کسی جانب سے شکایت درج نہ کرائے جانے کے باعث اسے تلاش نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں:پمز سانحہ: سی سی ٹی وی فوٹیج میں بچوں کو بچانے کی کوششوں سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آگئیں
ذرائع کے مطابق بچے کی والدہ تاحال لاپتا ہے، جس کے باعث اس کی میت ایدھی فاؤنڈیشن کے حوالے کی گئی۔
وزارت صحت کے مطابق سانحے سے متاثرہ خاندانوں کے لیے اعلان کردہ 50 لاکھ روپے فی خاندان مالی امداد ایدھی فاؤنڈیشن کے حوالے کی جائے گی۔ حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے بعد انتظامی سطح پر کارروائی بھی شروع کردی ہے۔













