نیپال اور چین کی سرحد پر گلیشیئر ٹوٹنے کے باعث آنے والے ہمالیائی خطے ’نیپال‘ میں تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 750 تک پہنچ گئی جبکہ 3000 سے زیادہ افراد تا حال لاپتا ہیں۔
نیپال کے سرکاری حکام کے مطابق اس خوفناک قدرتی آفت سے 90,000 سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں، جبکہ خراب موسم اور ندی نالوں میں پانی کی بڑھتی ہوئی سطح کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
بدھ کو برف، چٹانوں، مٹی اور ملبے کے طوفان نے پہاڑی وادیوں اور دریاؤں میں جو تباہی مچائی، اس کے ہولناک نتائج اب سامنے آ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:نیپال: سیلابی ملبے تلے 3 روز سے دبی 6 سالہ بچی زندہ نکال لی گئی
نیپال کی ڈیزآسٹر اتھارٹی کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 734 تک پہنچ چکی ہے، 2498 لاپتا ہیں، جبکہ 7514 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
دوسری جانب چینی حکام نے تصدیق کی ہے کہ جیرونگ کاؤنٹی میں 16 افراد ہلاک اور 546 لاپتا ہیں۔
بیجنگ کے مطابق تبت میں نیپال کے ساتھ اہم سرحدی کراسنگ کے قریب 23 ممالک سے تعلق رکھنے والے 261 غیر ملکی شہری بھی لاپتا ہیں۔
ریڈ کراس کا اندازہ ہے کہ اس آفت سے مجموعی طور پر 90,000 سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔
امدادی کارروائیوں میں حائل رکاوٹیں
ہمالیہ کے دشوار گزار خطے اور مسلسل خراب موسم نے ریسکیو آپریشن کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا ہے۔
نیپال میں مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ تازہ بارشوں کے بعد ترشولی دریا میں پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے جس کے باعث مقامی باشندوں اور امدادی کارکنوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔
سرحد پر بننے والی ایک نئی جھیل کے اوور فلو ہونے کے خطرے کے پیشِ نظر جمعہ سے اب تک کئی بار امدادی سرگرمیاں روکنی پڑی ہیں۔
مزید پڑھیں:نیپال: سیلاب کے بعد لوٹ مار، بہہ جانے والی بینک سیف سے لاکھوں روپے برآمد، 29 افراد گرفتار
اگرچہ چینی نشریاتی ادارے نے ہفتے کی شام تک اس جھیل کے کافی حد تک خالی ہونے کی اطلاع دی تھی، تاہم ڈرونز نے جھیل سے 2.8 کلومیٹر نیچے ایک نیا لینڈ سلائیڈ دریافت کیا ہے جس سے پانی کا ایک نیا تالاب بن گیا ہے اور مزید سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
ہائیڈرو پاور ٹنلز میں پھنسے افراد اور عالمی مدد کی اپیل
نیپال میں اس وقت امدادی کارروائیوں کا سب سے بڑا ہدف وہ سینکڑوں افراد ہیں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ سیلاب سے تباہ ہونے والے ہائیڈرو پاور پلانٹس کی سرنگوں (ٹنلز) میں پھنسے ہوئے ہیں۔
نیپالی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لوک بہادر چھیتری نے اپیل کی ہے کہ انہیں سرنگوں میں ریسکیو، ڈی این اے ٹیسٹنگ، لاشوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ریفریجریٹڈ سٹوریج اور گلی سڑی لاشوں کی فرانزک شناخت جیسی مخصوص مہارتوں میں بین الاقوامی مدد درکار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بھارتی اور چینی ماہرین پہلے ہی سرنگیں کھولنے اور امدادی کارروائیوں میں معاونت کر رہے ہیں۔
ناقابلِ شناخت لاشیں اور اجتماعی تدفین
اس سانحے کا سب سے دردناک پہلو ناقابلِ شناخت لاشوں کی برآمدگی ہے۔ لواحقین اسپتالوں، مردہ خانوں اور ریلیف کیمپوں میں اپنے پیاروں کی تلاش میں سرگرداں ہیں، لیکن لاشیں خراب ہونے کے باعث حکام نے سینکڑوں نامعلوم متاثرین کی اجتماعی تدفین شروع کر دی ہے۔
رسووا کے سیلاب زدہ علاقے سے بہہ کر آنے والی لاشیں دریائے نارائنی کے ذریعے چتپون کے علاقے تک پہنچ گئی ہیں۔
پولیس افسر انیل تھاپا نے صورتحال کی سنگینی بیان کرتے ہوئے کہا کہ اب تک جو لاشیں ملی ہیں، ان میں سے آدھے سے زیادہ پہچانی نہیں جا سکتیں۔ کئی لاشوں کے چہرے غائب ہیں، کہیں صرف ہاتھ یا پیر ملے ہیں تو کہیں سر کا آدھے سے زیادہ حصہ غائب ہے۔’
یہ بھی پڑھیں:نیپال میں تباہ کن سیلابی ریلے سے 552 افراد ہلاک، 1,400 سے زیادہ لاپتا، پاکستان کا ہنگامی امداد بھیجنے کا اعلان
حکام لاشوں کی تصویر کشی اور ڈی این اے کے نمونے جمع کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں ان کی شناخت ممکن ہو سکے۔ ہفتے کے روز 100 سے زیادہ لاشوں کی اجتماعی تدفین کے بعد اتوار کو مزید سینکڑوں قبریں تیار کی گئیں۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات
اس تباہی کو براہِ راست موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ سے جوڑا جا رہا ہے۔ چینی سائنسدانوں کے مطابق عالمی حدت کے باعث گلیشیرز کے عدم استحکام نے اس آفت کو جنم دیا، اور مٹی کے سیلاب کو نیپالی سرحد سے چینی علاقے جیرونگ تک پہنچنے میں محض چھ سے سات منٹ لگے۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے نیپالی ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو میں اسے حالیہ برسوں کی ‘سب سے سنگین سرحد پار آفت’ قرار دیا۔
چین نے امدادی کاموں کے لیے 220 ملین یوآن (32.7 ملین ڈالر) کے فنڈز مختص کیے ہیں اور 2100 سے زائد امدادی کارکنوں کو متحرک کر دیا ہے۔
چینی فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سامان گرا رہے ہیں اور لاپتا افراد کی تلاش کے لیے زندگی کا سراغ لگانے والے جدید آلات استعمال کیے جا رہے ہیں۔













