نیپال اور چین کے تبتی سرحدی علاقے میں اچانک آنے والے خوفناک سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 552 تک جا پہنچی ہے جبکہ 1,400 سے زیادہ افراد لاپتا ہیں جن میں سینکڑوں غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں۔
ریسکیو ٹیمیں ملبے سے لاشیں نکالنے کی کوششیں کر رہی ہیں، تاہم ندی کا راستہ بند ہونے سے بننے والی مصنوعی جھیل پھٹنے کے شدید خطرے نے انتظامیہ کے ہاتھ پاؤں پھلا دیے ہیں۔
سیلاب اور کیچڑ کے بہاؤ نے نیپال کو تبت کے دارالحکومت لہاسا سے جوڑنے والی اہم شاہراہ، پاور اسٹیشنوں، پلوں اور متعدد دیہات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کا نیپالی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، سیلاب متاثرین کے لیے امداد کی پیشکش
نیپالی حکام کے مطابق صرف نیپال میں 547 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ سرحد پار چین میں 5 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔
Good News,
Dear citizens of world,All those were praying and worried about what happened to people in the Green House during the catastrophic Nepal Floods
The family and house survived the ordeal. pic.twitter.com/iElo4qXvBL
— Woke Eminent (@WokePandemic) August 28, 2026
لاپتا افراد میں 540 سے زیادہ غیر ملکی شامل ہیں، جن میں 320 بھارتی شہری نیپال میں جبکہ 260 غیر ملکی تبتی علاقے گیرونگ میں لاپتا ہیں۔ نیپال کے ضلع چتوان میں ندیوں کے ذریعے بہہ کر آنے والی 103 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔
بھوٹے کوشی ندی میں بند اور تباہ کن سیلاب کا خطرہ
سیلابی ملبے کے باعث ‘بھوٹے کوشی’ ندی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہونے سے ایک بڑی مصنوعی جھیل بن چکی ہے۔ چینی ماہرین کے مطابق اگلے 3 دنوں میں تقریباً 3 ملین کیوبک میٹر پانی (جو تقریباً ‘1,200’ اولمپک سوئمنگ پولز کے برابر ہے) اس جھیل میں شامل ہوگا، جس سے 1 ستمبر تک اس کے پھٹنے کا شدید خطرہ ہے۔
چین کی 8 رکنی انجینیئرنگ ٹیم تھری ڈی ماڈلنگ اور فضائی سروے کے ذریعے ندی کی صفائی اور ڈرینج چینل بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے تاکہ ممکنہ تباہی کو روکا جا سکے۔
بین الاقوامی اور پاکستان کا امدادی اعلان
اس بڑی آفت کے پیشِ نظر چینی وزیراعظم لی چیانگ نے خود تبتی متاثرہ علاقے کا دورہ کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘مضبوط عمارتیں تنکوں کی طرح بہہ گئیں’ اور انہوں نے نیپال کو ہر ممکن مدد کی پیشکش کی ہے۔
مزید پڑھیں:نیپال: زلزلہ یا تباہی کا نیا روپ؟ 5.2 شدت کے جھٹکے کی خوفناک سچائی سامنے آگئی
دوسری جانب پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے نیپالی ہم منصب بالیندر شاہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور پاکستان کی جانب سے ہنگامی امدادی سامان فوری طور پر نیپال روانہ کرنے کا اعلان کیا۔
نیپال کا دشوار گزار جغرافیہ اور ماضی کے واقعات
نیپال اور ہمالیائی خطہ جغرافیائی اعتبار سے گلیشیئرز کے پگھلنے، مٹی کے تودے گرنے اور ناگہانی سیلابوں کے شدید خطرے کی زد میں رہتا ہے۔
کٹھمنڈو سے لہاسا کا یہ راستہ دنیا بھر سے آنے والے ٹریکرز اور مذہبی زائرین میں انتہائی مقبول ہے۔ یہ قدرتی آفت بالیندر شاہ کی 5 ماہ پرانی حکومت کے لیے سب سے بڑا امتحان سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم، نیپال کو اس سے قبل 2015 میں آنے والے زلزلے جیسی تباہ کاریوں سے نمٹنے کا تجربہ حاصل ہے جس میں تقریباً 9,000 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔














