نیپال اور تبت کی سرحد پر آنے والے ہولناک سیلاب کے بعد 85 امریکی شہری تاحال لاپتہ ہیں، تاہم 9 کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کھٹمنڈو اور بیجنگ کے سفارت خانوں کو ہائی الرٹ کرتے ہوئے 3.6 ملین ڈالر کی ہنگامی امداد کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹامی پگوٹ نے امریکی ٹی وی شو میں گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سیلاب زدہ علاقے میں تقریباً 85 امریکی شہری لاپتہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:نیپال گلیشیئر ٹوٹنے سے ہلاکتیں 750 تک پہنچ گئیں، 3 ہزار افراد تاحال لاپتا، امدادی کارروائیاں جاری
ان کا کہنا تھا کہ اب تک 9 امریکیوں کو ریسکیو کر لیا گیا ہے اور خوش قسمتی سے فی الحال کسی امریکی شہری کی ہلاکت کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
ترجمان نے واضح کیا کہ دور دراز اور دشوار گزار علاقہ ہونے کے باعث مصدقہ معلومات کے حصول میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، لیکن امریکی عوام کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے اور ہمارا عزم پوری طرح برقرار ہے۔
ہنگامی امداد اور بحالی کے اقدامات
امریکی شہریوں اور متاثرین کی بحالی کے لیے محکمہ خارجہ نے 3.6 ملین ڈالر کی ہنگامی انسانی امداد فعال کر دی ہے۔ ٹامی پگوٹ کے مطابق اس ہنگامی فنڈ کے ذریعے 10,000 خاندانوں کو 3 ماہ تک فوری نوعیت کی خوراک فراہم کی جائے گی۔
علاوہ ازیں اس رقم کو سڑکوں کی تعمیرِ نو اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات بحال کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا تاکہ محصور افراد تک بروقت رسائی ممکن ہو سکے۔
سفارتخانوں کا کردار اور شہریوں کے لیے خصوصی ہدایات
امریکی محکمہ خارجہ نے کھٹمنڈو اور بیجنگ میں اپنے سفارت خانوں کی معاونت میں اضافہ کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں:نیپال میں سیلاب: امدادی کارروائیاں جاری، تعمیرِ نو کے لیے 5 ارب ڈالر درکار
ترجمان نے بتایا کہ دونوں ممالک میں امریکی سفارت خانے مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور 24 گھنٹے کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے اس خطے میں موجود تمام امریکی شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ‘اسمارٹ ٹریولر انرولمنٹ پروگرام’ میں اپنی رجسٹریشن کروائیں، تاکہ ضرورت پڑنے پر سفارت خانوں کو ان سے رابطہ کرنے اور مدد فراہم کرنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔













