پاکستان میں عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے بعد ایک بار پھر یہ سوال زیر بحث ہے کہ کیا دنیا کے معروف آن لائن ادائیگیوں کے پلیٹ فارم پے پال کے لیے بھی پاکستان میں براہِ راست خدمات شروع کرنے کی راہ ہموار ہو رہی ہے؟
حالیہ دنوں میں گوگل نے پاکستان میں اپنا پہلا مقامی دفتر قائم کیا، جبکہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنی موبز نے بھی کراچی کے نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک میں اپنا علاقائی دفتر کھولا ہے۔
مزید پڑھیں: سری لنکا میں پے پال سروس کے آغاز کی خبریں، پاکستان اب بھی اس سہولت سے محروم کیوں؟
موبز کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا، مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی کے شعبوں میں خدمات فراہم کرتی ہے۔ عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کی آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کی برآمدات میں بھی مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
مالی سال 26-2025 میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات قریباً 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے 3.8 ارب ڈالر کے مقابلے میں 20.6 فیصد زیادہ ہیں۔ جولائی 2026 میں بھی آئی ٹی برآمدی وصولیاں 417 ملین ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 18 فیصد زیادہ ہیں۔
پے پال کا سوال کیوں اہم ہے؟
پاکستان کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کے باوجود عالمی ادائیگیوں کا نظام اب بھی فری لانسرز اور آن لائن کاروبار کرنے والوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ایک حالیہ رپورٹ میں بھی بین الاقوامی ادائیگیوں کی رکاوٹوں کو پاکستان کے فری لانسنگ ایکو سسٹم کو درپیش اہم مسائل میں شمار کیا گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان پائیونئر، وائز، زوم اور سکرل جیسے عالمی پلیٹ فارم دستیاب ہیں، تاہم پے پال جیسی وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی عالمی ادائیگی سروس کی عدم موجودگی پاکستانی فری لانسرز کے لیے ادائیگی کے ذرائع محدود کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں انہیں زیادہ ٹرانزیکشن لاگت اور مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ مسئلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ حکومت پاکستان آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز کی برآمدات میں کئی گنا اضافے کا ہدف رکھتی ہے۔ مختلف سرکاری منصوبوں میں آئی ٹی ایکسپورٹس کو 10 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا ہدف سامنے آ چکا ہے، جبکہ وزارتِ آئی ٹی کی جانب سے 2030 تک 25 ارب ڈالر کے آئی سی ٹی ایکسپورٹ ہدف کی بات بھی کی گئی ہے۔
ایسی صورتحال میں عالمی ادائیگیوں کے قابل اعتماد اور آسان نظام کو ڈیجیٹل برآمدات کے لیے اہم انفراسٹرکچر سمجھا جاتا ہے۔
کیا گوگل اور موبز کی آمد پے پال کے لیے بھی کوئی اشارہ ہے؟
ماہرین کے مطابق عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا پاکستان میں آنا یقیناً ملک کے ڈیجیٹل ایکو سسٹم کے لیے مثبت پیشرفت ہے، تاہم اسے پے پال کی پاکستان آمد کی براہِ راست علامت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
گوگل اور موبز کا بنیادی کاروبار ٹیکنالوجی، کلاؤڈ، ڈیٹا، مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی سے متعلق ہے، جبکہ پے پال بنیادی طور پر ڈیجیٹل ادائیگیوں اور مالیاتی خدمات کے شعبے میں کام کرتا ہے۔
البتہ عالمی کمپنیوں کی پاکستان میں بڑھتی دلچسپی اس بات کا اشارہ ضرور دے سکتی ہے کہ پاکستان کو اب صرف ایک بڑی صارف مارکیٹ کے طور پر نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل سروسز اور ہنرمند افرادی قوت کے مرکز کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
پے پال کے راستے میں اصل رکاوٹ کیا ہے؟
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے گلوبل فری لانسرز یونین کے بانی اور اعزازی صدر طفیل احمد خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پے پال کی براہِ راست آمد صرف کمپنی کے کاروباری فیصلے پر منحصر نہیں ہوگی بلکہ اسے ملک کے مالیاتی اور ریگولیٹری نظام کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہونا ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ کسی عالمی ادائیگی کمپنی کو پاکستان میں براہِ راست خدمات فراہم کرنے کے لیے بینکنگ نظام، فارن ایکسچینج، صارفین کی شناخت، منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت کی روک تھام سمیت مختلف ریگولیٹری تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔
اس کے علاوہ پے پال دنیا کے تمام ممالک میں ایک جیسی سہولیات فراہم نہیں کرتا۔ مختلف مارکیٹس میں صارفین کے لیے رقم وصول کرنے، رقم نکالنے اور مقامی کرنسی میں رقم رکھنے کی سہولیات مختلف ہو سکتی ہیں۔
لہٰذا پاکستان میں پے پال کی ممکنہ آمد کا معاملہ صرف اس سوال تک محدود نہیں کہ کمپنی پاکستان میں آنا چاہتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ کمپنی کو مقامی قوانین اور مالیاتی نظام میں کس نوعیت کا آپریشنل ماڈل دستیاب ہوگا۔
فری لانسرز کے لیے پے پال کیوں اہم ہے؟
پاکستانی فری لانسرز کے لیے مسئلہ صرف ادائیگی وصول کرنے کا نہیں بلکہ اسے آسان، کم لاگت اور قابلِ اعتماد طریقے سے پاکستان منتقل کرنے کا بھی ہے۔
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے گرافک ڈیزائنر ابوبکر بن معاذ کے مطابق ان کے متعدد غیر ملکی کلائنٹس پے پال کے ذریعے ادائیگی کرنا چاہتے ہیں، لیکن پاکستان میں براہِ راست سہولت دستیاب نہ ہونے کے باعث انہیں متبادل پلیٹ فارم استعمال کرنا پڑتے ہیں۔
ان کے مطابق کئی مرتبہ کلائنٹ کو متبادل ادائیگی کا طریقہ سمجھانا خود ایک مسئلہ بن جاتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب وہ پہلے ہی پے پال استعمال کرنے کا عادی ہو۔
محمد اسد عمر جو سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کی سروسز مہیا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر پے پال پاکستان میں باضابطہ طور پر دستیاب ہو جائے تو صرف ادائیگی وصول کرنا ہی آسان نہیں ہوگا بلکہ پاکستانی فری لانسرز کے لیے عالمی کلائنٹس کا اعتماد حاصل کرنا بھی نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے پاس ٹیلنٹ اور عالمی مارکیٹ دونوں موجود ہیں
گلوبل فری لانس ایسوسی ایشن کے اعزازی صدر طفیل احمد خان کے مطابق پاکستان میں گوگل سمیت عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی آمد ایک مثبت پیشرفت ہے اور اس سے مستقبل میں مزید بین الاقوامی کمپنیوں کے پاکستان آنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔
ان کے مطابق عالمی کمپنیوں کی موجودگی صرف سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع تک محدود نہیں بلکہ اس سے ملک کے مجموعی ڈیجیٹل ایکو سسٹم پر اعتماد بھی بڑھتا ہے۔
طفیل احمد خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے فری لانسرز پہلے ہی عالمی مارکیٹ میں خدمات فراہم کررہے ہیں، لیکن اصل چیلنج صرف بیرون ملک سے آمدن حاصل کرنا نہیں بلکہ اس آمدن کو کم سے کم لاگت اور شفاف طریقے سے پاکستان منتقل کرنا بھی ہے۔
ان کے مطابق موجودہ نظام میں متعدد فری لانسرز کو بین الاقوامی ادائیگیاں ایک یا ایک سے زیادہ تھرڈ پارٹی پلیٹ فارمز کے ذریعے وصول کرنا پڑتی ہیں، جس کے نتیجے میں ٹرانزیکشن فیس، کرنسی کنورژن اور دیگر چارجز کی صورت میں ان کی آمدن کا ایک حصہ کم ہو جاتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر براہِ راست ادائیگی کا نظام دستیاب ہو جائے تو فری لانسرز کے لیے نہ صرف رقم وصول کرنے کا عمل آسان ہوگا بلکہ اضافی کٹوتیوں میں بھی کمی آ سکتی ہے۔
ان کے مطابق پے پال کی عدم دستیابی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ دنیا کے بہت سے کلائنٹس پہلے ہی اسے ادائیگی کے معمول کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ایسے میں پاکستانی فری لانسرز کو کلائنٹ کو کسی متبادل پلیٹ فارم پر منتقل کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جو خاص طور پر نئے فری لانسرز کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ صرف پے پال کی پاکستان آمد سے فری لانسرز کے تمام مسائل حل نہیں ہوں گے۔ حکومت کو عالمی ادائیگی کمپنیوں کے لیے ایسا ریگولیٹری ماحول بھی فراہم کرنا ہوگا جس میں یہ پلیٹ فارمز قانونی، محفوظ اور شفاف انداز میں کام کر سکیں۔
کیا پے پال واقعی پاکستان آ رہا ہے؟
فی الحال ایسا کہنا قبل از وقت ہوگا۔
پے پال کی موجودہ عالمی معلومات کے مطابق پاکستان میں کمپنی کی مکمل مقامی ادائیگی خدمات دستیاب نہیں ہیں۔ اس لیے گوگل کا مقامی دفتر قائم کرنا، موبز کی کراچی میں موجودگی اور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ پے پال کے لیے پاکستان کو مستقبل میں زیادہ پرکشش مارکیٹ بنا سکتا ہے، لیکن ان پیشرفتوں کو پے پال کی پاکستان آمد کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
تاہم پاکستان کی بڑھتی ہوئی فری لانس اکانومی، آئی ٹی برآمدات میں اضافہ اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بڑھتی دلچسپی اس بحث کو ضرور اہم بنا رہی ہے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنی تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کے لیے عالمی ادائیگی کمپنیوں کو ایسا مالیاتی اور ریگولیٹری ماحول فراہم کر سکتا ہے جو انہیں پاکستان میں براہِ راست آپریشن شروع کرنے پر آمادہ کرے؟
طفیل احمد خان کے مطابق حکومت کوشش کر رہی ہے، اور پے پال سے بات چیت جاری ہے مگر پے پال باقاعدہ طور پر کب پاکستان آتی ہے، اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔












