فائر سیفٹی قوانین پر عمل درآمد کیوں نہیں ہو رہا؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے انتظامیہ سے جواب طلب کرلیا

پیر 31 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف دائر درخواست پر سیکریٹری داخلہ، چیئرمین سی ڈی اے، چیف کمشنر اسلام آباد اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے درخواست گزار نوید عاشق کی جانب سے ایڈووکیٹ افراسیاب کی وساطت سے دائر درخواست کی سماعت کی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسلام آباد میں فائر سیفٹی قوانین پر مؤثر انداز میں عمل درآمد نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث شہریوں کی جان و مال کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر سی ڈی اے کا بڑا ایکشن، 3 اہم عمارتیں سیل

درخواست میں 26 اگست کو پمز اسپتال میں لگنے والی آگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ واقعے میں شیرخوار بچے زندہ جل گئے، جبکہ پمز جیسے بڑے اسپتال کے پاس فائر ڈیپارٹمنٹ کی این او سی تک موجود نہیں تھی۔

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی دارالحکومت میں متعدد تجارتی، تعلیمی اور طبی عمارتیں مبینہ طور پر فائر سیفٹی این او سی کے بغیر فعال ہیں۔

کئی عمارتوں میں فائر فائٹنگ کے مناسب آلات، ہنگامی اخراج کے راستے اور فائر الارم تک موجود نہیں، جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بڑے جانی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد فائر پریوینشن اینڈ لائف سیفٹی ریگولیشنز 2010 پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں اور وفاقی دارالحکومت کی تمام عمارتوں کا فوری فائر سیفٹی آڈٹ کرایا جائے۔

درخواست گزار نے مزید استدعا کی کہ فائر سیفٹی این او سی کے بغیر کام کرنے والی عمارتوں کو فوری طور پر سیل کرنے کے احکامات دیے جائیں، جبکہ غیر قانونی اور غیر محفوظ عمارتوں کی مسلسل نگرانی کے لیے باقاعدہ انسپکشن کا مؤثر نظام بھی قائم کیا جائے۔

عدالت نے درخواست پر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp