آن لائن خطرات پر تحقیق کرنے والے ادارے کی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خریداری کے معروف آن لائن پلیٹ فارم ٹیمو کے میٹا پر موجود 100 نمایاں تشہیری صارفین میں سے 73 ممکنہ طور پر جعلی اکاؤنٹس ہیں، جو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کے ذریعے اشتہارات چلا رہے ہیں۔
چیک جمہوریہ سے تعلق رکھنے والے غیر منافع بخش ادارے آن لائن رسک لیبز کی تحقیق کے مطابق ان 73 ممکنہ جعلی اکاؤنٹس میں 28 روس اور 19 چین میں قائم تھے، جبکہ ان کے اشتہارات یورپی صارفین کو ہدف بنا رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ایمازون اور ٹیمو سمیت 42 کمپنیوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، نیویارک کے میئر نے قانونی نوٹس جاری کردیے
تحقیق میں بتایا گیا کہ 73 فیصد اکاؤنٹس نے جائزے کے دوران کم از کم ایک مرتبہ اپنا نام تبدیل کیا، جبکہ ایک اکاؤنٹ نے اپنا نام 15 مرتبہ تبدیل کیا۔ صرف 8 اکاؤنٹس کی حقیقی شناخت کی تصدیق ہوسکی۔
ادارے کی ایک عہدیدار کے مطابق ان 100 اکاؤنٹس میں حقیقی صارفین کی تعداد 15 سے 20 فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔
تحقیق میں ’یا لیلی‘ نامی ایک اکاؤنٹ کی مثال بھی دی گئی، جس کے انسٹاگرام پر ایک لاکھ 83 ہزار اور فیس بک پر ایک لاکھ 29 ہزار فالورز ہیں۔ تحقیق کے مطابق اس اکاؤنٹ سے تیار کردہ مواد 16 ماہ کے دوران ایک لاکھ 9 ہزار 500 سے زائد ٹیمو اشتہاری مہمات میں استعمال ہوا اور اسے ایک ارب سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جعلی آن لائن ٹریڈنگ پلیٹ فارمز اور انویسٹمنٹ اسکیم صارفین کو کس طرح لوٹتے ہیں؟
قانونی ماہرین کے مطابق اشتہارات کے لیے جعلی اکاؤنٹس کا استعمال کئی حوالوں سے گمراہ کن ہوسکتا ہے اور برطانیہ اور یورپی یونین کے اشتہاری قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آسکتا ہے۔
آن لائن رسک لیبز نے یورپی یونین کے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے نگران ادارے سے ٹیمو کے تشہیری صارفین کے نیٹ ورک سے لاحق خطرات کا باضابطہ جائزہ لینے کی درخواست بھی کردی ہے۔
تحقیق کے مطابق جائزے کے دوران ٹیمو کے میٹا پر چلنے والے اشتہارات میں شراکت داری پر مبنی اشتہارات کا حصہ 65.8 فیصد تھا، جبکہ عام اشتہار دینے والے اداروں میں یہ شرح تقریباً 2 فیصد رہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محبت کی آڑ میں آن لائن فراڈ: نوسربازوں سے کیسے بچا جائے؟
ادارے کے تخمینے کے مطابق ٹیمو نے برطانیہ اور یورپی یونین میں اس نوعیت کے اشتہارات پر 96 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک خرچ کیے، جو ایک سہ ماہی میں میٹا کی یورپ سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدنی کے تقریباً 2 فیصد کے برابر ہے۔













