نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے ایمیزون، والمارٹ، ٹارگٹ، وے فیئر اور ٹیمو کی پیرنٹ کمپنی پی ڈی ڈی ہولڈنگز سمیت 42 آن لائن ریٹیلرز کو مبینہ طور پر غیرقانونی تیز رفتار ای بائیکس اور ای اسکوٹرز فروخت کرنے پر سیز اینڈ ڈِسسٹ (فروخت روکنے) کے قانونی نوٹس جاری کر دیے۔
میئر ظہران ممدانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ غیرقانونی اور تیز رفتار ای بائیکس اور ای اسکوٹرز کے باعث متعدد قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں اسی لیے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے یہ کارروائی کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیویارک میں گروسری اسٹورز پر لڑائی، ایلون مسک نے ظہران ممدانی کو چور اور جھوٹا کیوں کہا؟
انہوں نے کہا کہ نیویارک کے شہریوں کی حفاظت فروخت کے لیے نہیں۔ ہم ان تمام کمپنیوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں جو خطرناک اور غیرقانونی گاڑیاں فروخت کر رہی ہیں۔
شہری انتظامیہ کے مطابق جن ای بائیکس اور ای اسکوٹرز کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ رفتار، وزن یا دیگر حفاظتی معیارات کے حوالے سے ریاستی قوانین پر پورا نہیں اترتے۔ یہ اقدام ایک حالیہ حادثے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایک غیرقانونی ای بائیک کی ٹکر سے 17 سالہ نوجوان ہلاک ہوگیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: نیویارک میئر ظہران ممدانی فوجی اہلکار کی آخری رسومات میں نظر انداز، شدید برہمی میں گھر واپس لوٹ گئے
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2017 سے اب تک غیرقانونی ای بائیکس سے متعلق حادثات میں 45 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ غیرقانونی اسٹینڈ اپ ای اسکوٹرز سے ہونے والے حادثات میں بھی 14 سے زیادہ اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔
میئر ممدانی کا کہنا تھا کہ منافع کی خاطر ایسی خطرناک مصنوعات فروخت کرنے والی کمپنیاں شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ ان کے بقول ہر خاندان کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ ان کا پیارا گھر سے نکلے تو بحفاظت واپس بھی آئے۔
یہ بھی پڑھیں: نیویارک کے میئر ظہران ممدانی بھی پاکستانی گلوکار شمعون اسماعیل کے مداح نکلے
دوسری جانب زہران ممدانی کے شہر کی سرپرستی میں کم قیمت پر اشیائے خورونوش فروخت کرنے کے مجوزہ گروسری اسٹورز کے منصوبے پر ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک نے بھی تنقید کی ہے۔ مسک نے ایکس پر جاری بیان میں ممدانی کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس ہی اشیا اور خدمات کو سستا بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
ظہران ممدانی کی انتظامیہ نے نیویارک کے پانچوں بورو میں سرکاری معاونت سے گروسری اسٹورز قائم کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے جس کے لیے 7 کروڑ ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ اس منصوبے سے شہریوں کو بنیادی اشیائے خورونوش پر تقریباً 30 فیصد تک بچت حاصل ہوگی۔














