مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اجتماعی سلامتی کے عزم کا اظہار ہے، وزیراعظم شہباز شریف

منگل 1 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خودمختاری، علاقائی سالمیت، اجتماعی سلامتی اور علاقائی امن کے حوالے سے ہمارے مشترکہ عزم کا اظہار ہے، یہ بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا معاہدہ ہے، کسی ریاست کے خلاف نہیں اور نہ ہی اس کا مقصد محاذ آرائی یا تقسیم پیدا کرنا ہے۔

وزیراعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے اجتماعی عزم کی علامت ہے، پاکستان تنظیم کا فعال اور ذمہ دار رکن ہے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ اور ایس سی او چارٹر کے اصولوں پر سختی سے عمل پیرا رہنے کے لیے پُرعزم ہے۔

مزید پڑھیں:آئندہ سال شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس پاکستان میں ہوگا، ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی

وزیراعظم نے بشکیک میں ایس سی او رہنماؤں کے تاریخی اجلاس کی میزبانی پر صدر صادر ژاپاروف اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور کرغزستان کو ایس سی او کی چیئرمین شپ کی کامیاب تکمیل پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کرغزستان اور ازبکستان کی قیادت اور عوام کو ان کے یوم آزادی کی بھی دلی مبارکباد پیش کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم عالمی امن اور استحکام کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ پاکستان کو ’شنگھائی اسپرٹ‘ کے تحت تنظیم کا رکن ہونے پر فخر ہے۔ ایس سی او کے قیام کے 25 سال مکمل ہونا ایک اہم سنگِ میل ہے، ایک ننھے پودے سے شروع ہونے والی یہ تنظیم آج تناور درخت کی شکل اختیار کرچکی ہے، جو خطے کو سلامتی اور استحکام کا سایہ فراہم کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی منظرنامہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی، عالمی معیشت کے انتشار، موسمیاتی بحران اور ٹیکنالوجی میں بے مثال تبدیلیوں سے دوچار ہے۔ ایسے پیچیدہ ماحول میں ایس سی او بڑے چیلنجز سے مل کر نمٹنے اور اپنے عوام کے لیے امن، سلامتی اور خوشحالی یقینی بنانے کے اجتماعی عزم کی نمائندگی کرتی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ اور ایس سی او کے چارٹرز کے بنیادی اصولوں کا احترام کرتا ہے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے۔ رواں سال کے اوائل میں ایک ایس سی او رکن ریاست کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے علاقائی بحران کے دوران پاکستان نے امن کی بھرپور حمایت کی۔ بحران کے باعث توانائی کی فراہمی کے اہم راستوں میں خلل پڑا جس سے عالمی معیشت متاثر ہوئی اور پاکستان سمیت عالمی برادری کو بھاری اقتصادی قیمت ادا کرنا پڑی۔

انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں پاکستان نے ایک ایماندار اور مخلص ثالث اور سہولتکار کا کردار ادا کیا۔ پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششیں تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی صورت میں نتیجہ خیز ثابت ہوئیں، جو علاقائی کشیدگی میں کمی اور پائیدار امن کی بحالی کی جانب اہم قدم ہے۔ انہوں نے ان ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستان کی امن کوششوں کی حمایت کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے حال ہی میں سہ فریقی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ خودمختاری، علاقائی سالمیت، اجتماعی سلامتی اور علاقائی امن کے حوالے سے مشترکہ عزم کا اظہار ہے۔ معاہدہ بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ریاست کے خلاف نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے کا حامی رہا ہے، تاہم کثیرالجہتی تنظیموں کو اس قابل بنانا ضروری ہے کہ وہ امنگوں اور وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرسکیں۔

وزیراعظم نے غزہ اور مغربی کنارے کی صورتِحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے بے گناہ عوام ناقابلِ تصور انسانی تکالیف کا سامنا کررہے ہیں۔ فلسطینی مائیں اپنے بچوں کے غم میں صدمے سے دوچار ہیں، خاندان بکھر رہے ہیں اور نسلیں خوف، محرومی اور ناانصافی کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو فلسطینی عوام سمیت تمام مظلوم اقوام کو ان کے حقِ خود ارادیت کے حصول میں مدد دینے کے عزم کو عملی جامہ پہنانا چاہیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جنوبی ایشیا، جو ایس سی او خطے کا اہم حصہ ہے، پائیدار امن کے بغیر اپنی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لاسکتا۔

پانی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پانی خطے کی زندگی کی بنیاد ہے، یہ لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو سہارا دیتا، زمینوں کو سیراب کرتا اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بناتا ہے۔ پانی کو کبھی ہتھیار، دباؤ کے ذریعے یا سیاسی مفادات کے حصول کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ مشترکہ آبی وسائل سے متعلق معاہدے پابند بین الاقوامی وعدے ہیں، جن کی ہر صورت میں، ان کی روح اور متن کے مطابق، غیر مشروط پاسداری کی جانی چاہیے۔

دہشتگردی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردی اپنی مختلف شکلوں میں پورے خطے کے لیے سنگین خطرات میں سے ایک ہے۔ ایس سی او کے علاقائی انسدادِ دہشتگردی ڈھانچے کی صدارت کے دوران پاکستان نے علاقائی انسدادِ دہشتگردی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے فعال کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ اڑھائی دہائیوں کے دوران پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دی ہیں اور 150 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کے معاشی نقصانات برداشت کیے ہیں۔ یہ قربانیاں صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ ایک محفوظ اور پُرامن خطے کے لیے بھی دی گئی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان پُرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، تاہم جب تک دہشتگرد افغان سرزمین کو پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے خلاف حملوں اور بے گناہ لوگوں کے قتل کے لیے استعمال کرتے رہیں گے، خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکے گا۔

علاقائی روابط کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایس سی او خطے میں 3 ارب سے زائد افراد آباد ہیں اور یہ خطہ وافر قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ یہ غیر معمولی صلاحیت ایس سی او رہنماؤں پر اپنے عوام کے بہتر مستقبل کی تشکیل کی غیر معمولی ذمہ داری عائد کرتی ہے۔ علاقائی رابطہ سازی اب انتخاب نہیں بلکہ تزویراتی ضرورت بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ بحران نے ثابت کیا ہے کہ متنوع نقل و حمل کے نیٹ ورکس، محفوظ توانائی راہداریاں اور مضبوط سپلائی چینز اجتماعی سلامتی کے لیے ناگزیر ہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) علاقائی معیشتوں کو بحیرہ عرب سے ملانے کے لیے اہم گیٹ وے کا کردار ادا کررہی ہے۔ پاکستان بین العلاقائی ریلوے منصوبوں، سڑکوں کے رابطوں اور علاقائی توانائی منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے بھی پُرعزم ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایس سی او ترقیاتی حکمتِ عملی 2035 پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے تمام توانائیاں بروئے کار لانا ہوں گی۔ ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک کا قیام اس سلسلے میں اہم قدم ہوگا۔ غربت میں کمی سے متعلق ایس سی او کے خصوصی ورکنگ گروپ کے مستقل چیئرمین کی حیثیت سے پاکستان سماجی تحفظ کو مزید مضبوط بنانے اور خطے میں جامع و پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایس سی او کی آئندہ چیئرمین شپ کے دوران ایک ایکشن پلان تجویز کررہا ہے، جس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت، توانائی، ترقی و غربت میں کمی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، صحت، ثقافت اور کھیل سمیت اہم شعبوں کو ترجیح دی جائے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پاکستان ذمہ دارانہ اور جامع اے آئی ترقی، ڈیجیٹل خودمختاری، تحقیق و جدت کے فروغ اور اس امر کو یقینی بنانے کے لیے ’ایس سی او سوورین اے آئی انفراسٹرکچر اینڈ گورننس فریم ورک‘ کے قیام کی تجویز پیش کرتا ہے کہ کوئی رکن ملک پیچھے نہ رہ جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ، پیشگی انتباہ اور امدادی اقدامات کے لیے رابطہ کاری مزید مؤثر بنانے کی غرض سے 27-2026 کے دوران اسلام آباد میں ’گلوبل ریزیلینس ایکسپو‘ کے انعقاد کی تجویز بھی دی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایس سی او کی پاکستان کی چیئرمین شپ کا مرکزی موضوع ’وژن کو عمل میں بدلنا: روابط، جدت طرازی اور مشترکہ خوشحالی‘ ہوگا۔ پاکستان یہ ذمہ داری اس یقین کے ساتھ قبول کررہا ہے کہ روابط عوام کو قریب لائیں گے، جدت طرازی مواقع کے نئے دروازے کھولے گی اور مشترکہ خوشحالی ہر گھر تک پہنچے گی۔

مزید پڑھیں:شنگھائی تعاون تنظیم کے 25 سال مکمل، یادگاری ڈاک ٹکٹ کی رونمائی

اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے کہا کہ جیسے بہت سے چشمے مل کر ایک عظیم دریا بناتے ہیں، اسی طرح جب ایس سی او ممالک اپنی طاقتوں، امنگوں اور صلاحیتوں کو یکجا کرتے ہیں تو ان کے لیے ترقی کے امکانات کی کوئی حد نہیں رہتی۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ غیر یقینی کے اس دور میں تاریخ ایس سی او کو ایسی تنظیم کے طور پر یاد رکھے گی جس نے تصادم پر تعاون، تقسیم پر مکالمے، رکاوٹوں پر پل اور خوف پر امید کو ترجیح دی اور محض بدلتی ہوئی دنیا کا مشاہدہ نہیں کیا بلکہ اسے تشکیل دینے میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایس سی او سربراہان مملکت کی کونسل کے اجلاس کے مشترکہ اعلامیے پر بھی دستخط کیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp