اسلام آباد کو نئی وفاقی اکائی بنانے کے لیے وزارت منصوبہ بندی نے سفارشات تیار کر لیں

منگل 1 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دارالحکومت اسلام آباد کو نئی وفاقی اکائی بنانے کے لیے وزارت منصوبہ بندی نے سفارشات تیار کر لی ہیں، مجوزہ منصوبے کے تحت اسلام آباد کو 27 انتظامی شعبوں کے ذریعے چلایا جائے گا۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق لا اینڈ آرڈر اور ماسٹر پلاننگ کے شعبے کو چھوڑ کر اسلام آباد کا باقی نظام منتخب اراکین کی اسمبلی کے ذریعے چلایا جائے گا۔

وزیر منصوبہ بندی نے صحافیوں اور سول سوسائٹی کے ساتھ مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اس ضمن میں تمام تجاویز تیار کر لی گئی ہیں اب وزیراعظم کی ہدایت پر پہلے عام شہریوں اور اب صحافیوں اور سول سوسائٹی کے اراکین کے ساتھ مشاورت کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: بدھ مت کے تاریخی آثار، شاہ اللہ دتہ غاروں کو عالمی توجہ کا مرکز بنانے کی تیاری

’اسلام آباد کے مسائل کے لیے آواز اٹھانے کا کوئی مؤثر فورم موجود نہیں اور وفاقی حکومت کو اسلام آباد کے مسائل حل کرنا پڑتے ہیں، اس عمل کے مکمل ہونے کے بعد سفارشات وزیراعظم کو پیش کریں گے۔‘

وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پمز حادثے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ حادثہ بھی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اسلام آباد میں انتظامی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

مجوزہ تجاویز کے مطابق صوبائی حکومت کی طرز پر اسلام آباد کی 27 رکنی اسمبلی بنائی جائے گی جس میں 21 اراکین براہ راست منتخب ہوں گے جبکہ خواتین کے لیے 5 مخصوص نشستیں اور ایک اقلیتی نشست ہو گی۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد صوبوں سے اختیارات واپس لینا چاہتا ہے، ہم اپنے حقوق کا دفاع کریں گے، بلاول بھٹو

اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی 3 نشستیں ہیں اور ہر قومی اسمبلی کے حلقے میں 7 مقامی حکومت کی نشستیں بنائی جائیں گی۔

وفاقی دارالحکومت میں ایک نئے سیاسی و انتظامی اصلاحات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں احسن اقبال، محسن نقوی، رانا ثنا اللہ، مصدق ملک اور وفاقی وزارتوں کے سیکرٹریز شامل تھے۔

احسن اقبال نے بتایا کہ اس کمیٹی نے دنیا بھر کے دارالحکومتوں کے نظام کا جائزہ لے کر تجاویز مرتب کی ہیں اور ایک ایسا نظام وضع کیا جائے جس میں عوام کی شرکت ہو۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد مونوریل منصوبہ کیا ہے، کب تک شروع ہونے کا امکان ہے؟

سینیئر صحافی حامد میر نے دریافت کیا کہ وفاقی حکومت لا اینڈ آرڈر کا شعبہ اپنے پاس کیوں رکھنا چاہتی ہے جس کے جواب میں بتایا گیا کہ لندن پیرس اور نئی دہلی میں بھی لا اینڈ آرڈر وفاقی حکومت کے پاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ سارے اختیارات مقامی حکومت کو منتقل ہو جائیں گے جبکہ صحت، تعلیم، سیاحت اور ماحولیات کے لیے 6 سے 7 اتھارٹیز بنائی جائیں گی۔

احسن اقبال نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد سوشل ویلفیئر کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہو گیا تھا لیکن اب بھی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا 838 ارب وفاقی حکومت کو دینا پڑتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp