صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی کر دی۔ تعیناتی کا اطلاق 17 ستمبر 2023 ء سے جسٹس عمر عطا بندیال کی ریٹائرمنٹ سے ہوگا۔
موجود چیف جسٹس آف پاکستان ، جسٹس عمر عطا بندیال ، آئین کے آرٹیکل 179 کے تحت 16 ستمبر 2023ء کو ریٹائرمنٹ حاصل کرلیں گے۔
صدر مملکت نے چیف جسٹس کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 175 اے تین کے تحت کی۔ صدر مملکت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے 17 ستمبر 2023 ء کو عہدے کا حلف لیں گے۔

قاضی فائز عیسیٰ کون ہیں؟
قاضی فائز عیسٰی 26 اکتوبر 1959 کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔ اُن کا تعلق پشین کے ایک ممتار خاندان سے ہے۔ وہ مرحوم قاضی محمد عیسٰی کے صاحبزادے ہیں جو تحریک پاکستان کے صف اول کے رہنما تھے۔ اور قاضی جلال الدین کے پوتے ہیں جو آزادی سے پہلے ریاست قلات کے وزیر اعظم تھے۔
قاضی فائز عیسیٰ کی والدہ بیگم سعدیہ عیسٰی سماجی کارکن تھیں۔ وہ متعدد ہسپتالوں اور فلاحی اداروں کے بورڈ آف گورنرز کی رُکن تھیں۔ وہ شادی شدہ ہیں اور دو بچوں کے باپ ہیں۔
جسٹس فائزعیسٰی نے اپنی ابتدائی اور ثانوی تعلیم کوئٹہ میں حاصل کی اور “O” اور “A” لیول کراچی گرائمر سکول سے کیا اور اسکے بعد BAآنرز )لاء( لندن سے کیا۔ انہوں نے بار پروفیشنل امتحان لندن کے اِن سکول آف لاء سے کیا اور بار آف انگلینڈ اور ویلز )مڈل ٹیمپل 1982(میں درج ہوئے۔
قاضی فائز عیسیٰ نے 30 جنوری1985 کوعدالت عالیہ بلوچستان میں ایک وکیل کے طور پر رجسٹرڈ ہوئے۔ 21 مارچ 1998 کو وہ عدالت عظمٰی سے وکیل کے طور پر منسلک ہوئے۔ جسٹس فائز عیسٰی 27 سالوں تک مختلف عدالت عالیہ وفاقی شرعی عدالت اور عدالت عظمٰی کے سامنے پیش ہوتے رہے۔ وہ بلوچستان ہائی کورٹ ایسوسی ایشن ، سند ھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن آف پاکستان کے تا حیات ممبر ہیں
جج بننے سے پہلے وہ ایک نامور لاء فرم کے سینئیر حصہ دار تھے۔ وقفہ وقفہ سے اُنہیں عدالت عالیہ اور عدالت عظمٰی میں مشکل مقدمات میں مشورے کے لیے بلایا جاتا رہا ہے۔ وہ بہت سے بین الاقوامی مقدمات میں بھی پیش ہوتے رہے ہیں۔ یہ مقدمات متعدد قانونی جریدوں میں چھپتے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
قاضی فائز عیسیٰ کی ما حولیات اور عوامی مقدمات میں دلچسپی کی وجہ سے بلوچستان میں خصوصی قوانین آرڈیننس 1اور 2 آف 1968کا نفاذ ہوا بلوچستان با ر ایسوسی ایشن کی طرف سے (پی ایل ڈی 1991 کوئٹہ) انھوں نے عدالت عالیہ میں کوئٹہ بلڈنگ کوڈ کے خلاف ورزی پر ایک مقدمہ بھی درج کیا تھا جس کی وجہ سے ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ اسے نافذ کیا جائے تاکہ زلزلہ کی صورت میں اموات اور نقصانات کم سے کم ہوں۔(پی ایل ڈی 1991 کوئٹہ-1) ورلڈ بنک کے معاون سے حیثیت سے اُنہوں نے ایک رپورٹ بعنوان “Report on the Legal Aspects of Acquisition of Land for the Proposed Karachi Mass Transit Project” تیار کی۔
وہ “Promotion of Private Sector Participation in Highway Financing, Construction and Operation” میں قانونی ماہر تھے ۔
اس کے علاوہ وہ قانونی اور ماحولیاتی ماہر کے طور پر ایشین ڈیولپمنٹ بنک کے “Balochistan Groundwater Resources Reassessment” پروگرام میں شامل تھے جس میں ایشین ڈیویلپمنٹ بنک کا مالی تعاون شامل تھا۔ اس کے علاوہ وہ اُس کنسوریشم کا بھی حصہ رہے جو ورلڈ بنک کا پراجیکٹ “Technical Assistance for the Preparation and Implementation of Private Sector Participation in the Karachi Water Supply and Sewerage Sector” تھا۔
جسٹس قاضیٰ فائز عیسی اعزازی طور پر پاکستان کے ایک بنک کے بورڈ آف ڈائریکٹر میں ڈائریکٹر کے طور پر بھی کام کرتے رہے ہیں۔ اس کے علاہ وہ پالیسی بورڈ آف سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان اور قائد مزار منجمینٹ بورڈ کے بھی ممبر رہے ہیں۔ وہ 1994 تک اسلامیہ لاء کالج یونیورسٹی آف کراچی میں آئین پاکستان اور برصغیر کی قانونی تاریخ کے پروفیسر رہے۔
جسٹس فائز عیسیٰ ایک کتاب “Mass Media Laws and Regulations in Pakistan” کے مشترکہ مصنف بھی ہیں ۔ جسے ایشین میڈیا اور انفارمیشن سینٹر سنگاپور نے چھاپا اور یہ اس عنوان پر پہلی کتاب ہے۔اُنھوں نے”بلوچستان کیس اینڈ ڈیمانڈ “ نامی کتابچہ بھی لکھا ہے ۔ )جسے PILDAT نے 2007 میں شائع کیا(اسکے علاوہ اُنھوں نے قانون ماحولیات ، اسلام، بلوچستان اور آئین پر بہت سے اداریے لکھے جو کہ مختلف ممتاز انگلش اخباروں میں شائع ہوئے۔
وہ ان ججوں کے سامنے پیش نہیں ہوئے جنہوں نے 3 نومبر 2007 کی ایمرجنسی کے تحت حلف اُٹھایا تھا۔عدالت عظمٰی کی 31جولائی 2009 کے فیصلے کے بعد جس میں اُنھوں نے 3 نومبر 2007 کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا جس کی وجہ سے عدالت عالیہ بلوچستان کے تمام جج صاحبان مستعفی ہوگئے۔
ان حالات میں جسٹس فائز عیسٰی کو بلایا گیا اور صوبہ بلوچستان میں کام کرنے کے لئے کہا گیا اور اُنھیں 5 اگست 2009 کو چیف جسٹس بلوچستان کا عہدہ دے دیا گیا۔
حکومت پاکستان نے 1 اکتوبر 2010 میں اُس وقت عدالت عالیہ لاہور کے چیف جسٹس جناب خواجہ محمد شریف کے غیر قانونی اقدام قتل پر ایک کمیشن بنایا ،چیف جسٹس عیسٰی اس کمیشن کے چئیر مین بنے اس کمیشن میں عدالت عالیہ لاہور اور پشاور کے جج صاحبان رُکن تھے اس کمیشن کی رپورٹ حکومت کو جمع کروا دی گئی تھی۔
30 دسمبر 2011 کو عدالت عظمٰی نے ایک 3رُکنی کمیشن بنایا جو کہ اُس یاداشت کی اصلیت ، جاننے کے بارے میں تھا جو کہ یو-ایس جوائنٹ چیف آف سٹاف مائیک مولین کو دیا گیا تھا ۔یہ کمیشن جسٹس مُشیر عالم ، جسٹس اقبال حمید الرحمن اور جسٹس قاضی فائز عیسٰی جو کہ عدالت عالیہ سندھ ، اسلام آباد اور بلوچستان کے چیف جسٹس صاحبان تھے پرمشتمل تھا۔ چیف جسٹس عیسٰی اس کمیشن کے چئیرمین تھے۔ انہوں نے مئی 2012 میں اپنی رپورٹ عدالت عظمٰی میں جمع کروا دی تھی۔
جسٹس فائزعیسٰی نے پاکستان لاء اینڈ جسٹس کمیشن ، نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی اور فیڈرل جوڈیشل کمیشن کے رُکن رہے اور اپنی خدمات عطا سر انجام دیں۔ چیف جسٹس کے عہدے کے ساتھ ساتھ ان کے پاس بلوچستان جوڈیشل اکیڈمی کے چئیر مین کا عہدہ بھی تھا۔
جسٹس قاضی فائز عیسٰی 5 ستمبر 2014 کو عدالت عظمٰی پاکستان کے جج بنے۔

















