پاکستان کے نامور مارشل آرٹسٹ عرفان محسود نے ایک منٹ میں 10 کلوگرام وزن کے ساتھ 38 مکمل ون ہینڈ پنچز (ایک ہاتھ کے گھونسے) مار کر ایک بار پھر نیا گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا ہے اور عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی مارشل آرٹسٹ عرفان محسود کا ایک اور عالمی کارنامہ، گینیز ورلڈ ریکارڈ توڑ دیا
گنیز ورلڈ ریکارڈ کی جانب سے اس کارنامے کی باضابطہ تصدیق کر دی گئی ہے۔ جاری کردہ سرٹیفکیٹ کے مطابق عرفان محسود نے یہ ریکارڈ 19 مارچ 2026 کو ڈیرہ اسماعیل خان میں قائم کیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عرفان محسود نے بتایا کہ گنیز ورلڈ ریکارڈز کی طرف سے 30 پنچز کا ہدف دیا گیا تھا جسے میں نے عبور کرتے ہوئے 38 پنچز لگا کر یہ نیا ریکارڈ اپنے نام کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی ان کی سخت ترین تربیت اور مسلسل توجہ کا نتیجہ ہے۔
شاندار کیریئر اور عالمی برتری
عرفان محسود صرف پش اپس کی کیٹیگری میں ہی 70 عالمی ریکارڈ قائم کر چکے ہیں جو کہ دنیا بھر میں اس ڈسپلن میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔
پاکستانی مارشل آرٹسٹ عرفان محسود نے ایک اور گینیز ورلڈ ریکارڈ توڑ دیا https://t.co/xXpX8UQd19
— Nawaz Gohar (@nawazgohar1) September 1, 2026
اس سے قبل وہ 100، 80، 60 اور 40 پاؤنڈ وزن اٹھا کر بھی متعدد عالمی ریکارڈز بنا چکے ہیں۔
20 سے زائد ممالک کے حریفوں کو مات
عرفان محسود نے امریکا، بھارت اور جرمنی سمیت 20 سے زائد ممالک کے ایتھلیٹس کے ریکارڈ توڑ کر پاکستان کا پرچم بلند کیا ہے۔
Pakistan’s Irfan Mehsood holds a Guinness record: 38 full-extension one-hand punches holding 10kg in one minute.
Achieved in Dera Ismail Khan on 19 March 2026.
Follow Vok Sports for more stories like this.#PakistanSports pic.twitter.com/t56nd2klpY
— Vok Sports (@voksports) September 1, 2026
عرفان محسود کے گنیز ورلڈ ریکارڈز صرف پنچز یا پش اپس تک محدود نہیں ہیں بلکہ انہوں نے اسکواٹس، جمپنگ جیکس، نی اسٹرائیکس، ایلبو اسٹرائیکس، سائیڈ جمپس اور ہائی جمپس جیسے متعدد فٹنس ڈسپلنز میں بھی عالمی ریکارڈز قائم کیے ہیں۔
نئی نسل کی تربیت
اپنی ذاتی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ عرفان محسود ایک بہترین مینٹور بھی ثابت ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیے: گنیز ورلڈ ریکارڈز کی سینچری کرنے پر صرف 5 لاکھ کا چیک، عرفان محسود نے واپس کردیا
ان کے 20 شاگرد بھی اب تک مختلف گنیز ورلڈ ریکارڈز اپنے نام کر چکے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بہترین تربیت، نظم و ضبط اور محنت کے ذریعے پاکستانی ایتھلیٹس دنیا میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔














