ناروے کے بادشاہ شاہ ہارالڈ کی گزشتہ جمعہ کو 89 برس کی عمر میں انتقال کے بعد ان کے فرزند شاہ ہاکون ہشتم نے منگل کے روز پارلیمنٹ کے سامنے ملک کے آئین اور قوانین کی پاسداری کا باقاعدہ حلف اٹھا لیا ہے۔ اس حلف برداری کے ساتھ ہی تاج و تخت کی منتقلی کی رسمی و روایتی تقاریب کا سلسلہ مکمل ہو گیا ہے۔
سابق حکمران شاہ ہارالڈ کی وفات کے بعد سے اب تک دسیوں ہزار نارویجن شہری شاہی محل کے باہر پھول، موم بتیاں، خاکہ جات اور قومی پرچم رکھ کر انہیں خراجِ تحسین پیش کر چکے ہیں۔ عوام کی بڑی تعداد نے آنجہانی شاہ ہارالڈ کی شفیق طبیعت اور ہر طبقے کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت کو سراہا، جبکہ نئے بادشاہ شاہ ہاکون نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں انہیں ایک ’بہترین اور شفیق باپ‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے یورپ کے معمر ترین حکمران شاہ ہارالڈ پنجم انتقال کرگئے، نیا بادشاہ کون ہوگا؟
نئے بادشاہ کے تخت سنبھالنے کے دوران ناروے میں شاہی نظام کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارے NRK کے لیے ‘نورسٹیٹ’ کے تازہ ترین سروے کے مطابق، 72 فیصد عوام شاہی نظام کی حمایت کرتے ہیں جبکہ صرف 20 فیصد جمہوریت یا حکومت کی کسی دوسری شکل کے حامی ہیں۔ یاد رہے کہ مئی میں کیے گئے پچھلے سروے میں شاہی نظام کی حمایت 64 فیصد تھی۔
حلف برداری کی اس تاریخی تقریب میں بادشاہ کی والدہ ملکہ سونیا (89 سال)، شہزادی انگرڈ الیگزینڈرا (22 سال) اور شہزادہ سویرے میگنس (20 سال) نے شرکت کی۔ تاہم، شاہ ہاکون کی 53 سالہ اہلیہ ملکہ میٹے مارٹ پھیپھڑوں کے پیوند کاری (ٹرانسپلانٹ) کے بعد پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں کی وجہ سے تقریب میں شریک نہ ہو سکیں۔
اوسلو یونیورسٹی اسپتال کے معالج ڈاکٹر آر ہولم نے شاہی محل سے جاری بیان میں بتایا کہ پھیپھڑوں کی پیوند کاری کے بعد ایسی پیچیدگیاں ہونا غیر معمولی نہیں ہے، جس کی وجہ سے ملکہ کو پورا دن طبی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ناروے کے ولی عہد کی اہلیہ میٹے مارٹ کے جیفری ایپسٹین سے تعلقات پر وزیراعظم کا ردعمل
واضح رہے کہ ناروے کے قوانین کے تحت والد کے انتقال کے ساتھ ہی ہاکون خود بخود ملک کے نئے بادشاہ بن گئے تھے۔ ناروے میں 1908ء میں تاجپوشی کی رسمی تقریب ختم کر دی گئی تھی، جس کے باعث یہاں صرف پارلیمنٹ کے سامنے حلف اٹھانے کی روایت برقرار ہے۔













