ٹرمپ کی ایک کال پر ایپل میپس بھی ڈھیر،  جھیل اونٹاریو کا نام ’جھیل امریکا‘ کر دیا

بدھ 2 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے براہِ راست رابطے کے بعد امریکا میں اپنے میپس ایپ کے صارفین کے لیے جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے’جھیل امریکا ‘ (Lake America) کردیا ہے۔ یہ تبدیلی ایسے روز کی گئی جب جان ٹرنَس نے ٹم کک کی جگہ ایپل کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر کا منصب سنبھالا۔

ایپل ٹرمپ کے متنازع انتظامی حکم پر عمل کرنے والی دوسری بڑی امریکی ٹیک کمپنی بن گئی ہے۔ اس سے قبل گوگل نے بھی امریکی صارفین کے لیے جھیل اونٹاریو کا نام’جھیل امریکا ‘ کردیا تھا۔ تاہم ٹرمپ کا انتظامی حکم نجی کمپنیوں کو اپنے نقشوں میں نام تبدیل کرنے کا پابند نہیں کرسکتا۔ حکم کے تحت امریکی حکومت کے جغرافیائی ناموں کے سرکاری نظام میں تبدیلی کی گئی ہے، جسے گوگل سمیت دیگر کمپنیاں اپنے نقشوں کے لیے بطور حوالہ استعمال کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے جغرافیائی ناموں کی جنگ، گوگل میپس پر جھیل اونٹاریو کے مختلف نام

امریکی وزیر داخلہ ڈگ برگم نے پیر کو فوکس نیوز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایپل سے براہِ راست رابطہ کرکے ایپل میپس پر جھیل کا نام تبدیل کرنے کی درخواست کی تھی۔ ایپل اس سے قبل بھی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ناموں میں کی گئی تبدیلیوں کو اپنے نقشوں میں شامل کرچکا ہے، جن میں خلیج میکسیکو کو ’ خلیج امریکا ‘ اور الاسکا کے پہاڑ ڈینالی کو ’ماؤنٹ میک کِنلی ‘ کا نام دینا شامل ہے۔ ایپل نے تاہم جھیل اونٹاریو کے معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

گوگل نے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نقشے حکومتی ذرائع‘ میں درج ناموں کے مطابق ہوتے ہیں۔ چنانچہ امریکا میں صارفین کو ’جھیل امریکا‘، کینیڈا میں’جھیل اونٹاریو‘ جبکہ دیگر ممالک میں دونوں نام دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری جانب میپ کویسٹ نے نام کی تبدیلی کی مخالفت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں کہا کہ ’اسے اپنی مرضی سے جو نام چاہیں دے دیں۔ ‘

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ نے جھیل اونٹاریو کا نام ’لیک امریکا‘ رکھ دیا، مصنوعی ذہانت سے تیار ویڈیو بھی جاری

یاد رہے کہ جھیل اونٹاریو امریکا اور کینیڈا کے درمیان واقع ہے اور اس کا موجودہ نام مقامی وینڈٹ زبان سے ماخوذ ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے کی کوشش امریکا اور کینیڈا کے درمیان کشیدہ تعلقات کے دوران سامنے آئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکا نے تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد محصولات عائد کیے، جس کے جواب میں کینیڈا نے بھی مساوی مالیت کی امریکی برآمدات پر جوابی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت کے دوران مغربی نصف کرۂ ارض میں امریکی اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں کے تحت جغرافیائی ناموں میں تبدیلی اور انگریزی کو امریکا کی سرکاری زبان قرار دینے جیسے اقدامات بھی کیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp